• 18 اکتوبر, 2026

شانِ رمضان

ماہِ رمضاں کے بہت ہی مختلف انداز ہیں
رحمتوں اور برکتوں کے ہو رہے آغاز ہیں

آنسوؤں سے جب جلائے جائیں یہ دل کے دئے
شب کی گریہ زاریوں میں مغفرت کے راز ہیں

پھر سے آئے ہیں بڑی ہی شان سے ایام جو
سال کے باقی دنوں سے یہ بہت ممتاز ہیں

تھام کر تقویٰ کو دیویں نفسِ امّارہ کو مات
اَلصّیَامُ جُنَّۃٌ کی اصل یہ اغراض ہیں

دور کر دل کی کدورت عجز کی راہوں پہ چل
خاک میں ملنا ہے گر تو پھر بھلا کیوں ناز ہیں

تیر اور تلوار سے لڑنے کو یکسر چھوڑ کر
جنگ بدیوں سے ہے کرنی گرچہ ہم جانباز ہیں

گر خدا کے واسطے شیطان سے جھگڑیں گے ہم
ڈھال بن جائیں گے روزے کم نہ یہ اعجاز ہیں

اک خدا کے پیار کی دُھن منؔ میں میرے بج اٹھی
مجھ کو اب بھاتے نہیں دوجے کوئی بھی ساز ہیں

(منصورہ فضل منؔ۔قادیان)

Read Previous

اس وبا کا حسین پہلو (ایک ادبی اور تربیتی تحریر)

Read Next

Covid-19 اپ ڈیٹ 04 ۔مئی2020 ء

Most Popular