• 3 نومبر, 2026

آدمی کا سکوں خود کی جستجو ٹھہرا

کبھی تو وصل کبھی ہجر رو برو ٹھہرا
پر عشق دونوں زمانوں میں سرخرو ٹھہرا

محبتوں کا شجر ایسا باثمر نکلا
بہار میں بھی خزاں میں بھی خوبرو ٹھہرا

نہ آب گینوں میں پایا نہ ناز نینوں میں
بس آدمی کا سکوں خود کی جستجو ٹھہرا

رہینِ لفظ نہیں ہے وہ شاعرِ کم گو
کہ جس کا مشغلہ جذبوں سے گفتگو ٹھہرا

ظفر نے جب بھی پڑھا اپنے دل کے نقشے کو
وہ ذرّہ ذرّہِ عالم سا ہو بہو ٹھہرا

(مربی مقبول احمد ظفر مرحوم)

Read Previous

جو شخص سننے کے بعد وصیت کو بدل ڈالے …

Read Next

سیدنا حضرت مسیح موعودعلیہ الصلاۃ والسلام کی دعوی سے پہلی پاکیزہ زندگی کی چندجھلکیاں

Most Popular