• 3 نومبر, 2026

میراثِ محمدﷺ کے امیں

فضل ربی کے کئی روپ کئی چہرے ہیں
نعمتیں جیسے کہ بارش کے رواں قطرے ہیں

دستِ قدرت نے تراشا ہے ہمیں چاہت سے
ہم تو میراثِ محمدؐ کے امیں ٹھہرے ہیں

یہ جو منزل ہے یہ انعام ہے خیرات نہیں
آگ اور خون کے طوفانوں سے ہم گزرے ہیں

جھونک ڈالے ہیں دل و جان و نفوس و اموال
ہو کے قربان رہِ مولیٰ میں ہم نکھرے ہیں

ایک ہی دُھن ہے کہ مالک کی رضا حاصل ہو
ہم سے جو ہوسکا اس راہ میں کر گزرے ہیں

اپنی سج دھج کی زمانے میں نہیں کوئی مثال
بدر کامل ہوا آئینہ تو ہم سنورے ہیں

کیسا پیارا ہے یہ اسلام کا دورِ آخر
آسمانوں سے مسیحائے زماں اُترے ہیں

(امۃ الباری ناصر)

Read Previous

جماعت احمدیہ کا ماٹو

Read Next

تو مسلمان ہوجا امن میں آجائے گا

Most Popular