• 3 نومبر, 2026

فرصت ملی ہے کب مجھے اب تک پڑے ہیں کام

فرصت ملی ہے کب مجھے اب تک پڑے ہیں کام
کیسے کہوں کہ میرا ہے سب کچھ اسی کے نام
باقی ہیں وہ جو اوروں کے پُرسانِ حال ہیں
ساقی نے سب کے بھر دئیے خالی ہے میرا جام
جاؤ خدا کے نور کو حاصل کیا کرو
اس شخص سے جو دل کو منوّر کرے مدام
مہمان بن کے آئے تھے رہنے کو چار دن
اب زندگی کی دیکھئے ہونے لگی ہے شام
رونق جہانِ دل کی فقط تیرے دم سے ہے
تیرے بغیر جاناں یہ دنیا ہے ناتمام
میری سنیں تو رات اندھیرے میں کاٹیے
مشعل کا اس کے ذکر سے ہی کیجے اہتمام
طارق ہیں اس نگر میں سبھی آشنا ہوئے
اب ایسا یار ڈھونڈکہ ہو جائیں سارے کام

(ڈاکٹر طارق انور باجوہ۔لندن)

Read Previous

دعاؤں کی قبولیت کے نظارے دیکھنے ہیں تو اعمالِ صالحہ کی ضرورت ہے

Read Next

آج کی دعا

Most Popular