• 2 نومبر, 2026

مَیں ترا در چھوڑ کر جاؤں کہاں

مَیں ترا در چھوڑ کر جاؤں کہاں
چینِ دل آرامِ جاں پاؤں کہاں

یاں نہ گر روؤں کہاں روؤں بتا
یاں نہ چِلّاؤں تو چِلّاؤں کہاں

تیرے آگے ہاتھ پھیلاؤں نہ گر
کس کے آگے اور پھیلاؤں کہاں

جاں تو تیرے در پہ قرباں ہو گئی
سر کو پھر مَیں اور ٹکراؤں کہاں

کون غم خواری کرے تیرے سوا
بارِ فکر و حزن لے جاؤں کہاں

دل ہی تھا سو وہ بھی تجھ کو دے دیا
اب میں اُمیدوں کو دفناؤں کہاں

بڑھ رہی ہے خارشِ زخمِ نہاں
کس طرح کھجلاؤں ۔کھجلاؤں کہاں

کثرتِ عصیاں سے دامن تر ہوا
ابر اشکِ توبہ برساؤں کہاں

(کلام محمود صفحہ104)

Read Previous

پیشگوئی مصلح موعودؓ اور سبز اشتہار

Read Next

سیدنا حضرت مصلح موعود ؓ اور علم قرآن

Most Popular