• 18 اکتوبر, 2026

خلیفہ خدا بناتا ہے

وہی جو خاک کے سینہ سے پھول اگاتا
جو پتھروں سے بھی چشمے بہا کے لاتا
نہاں جو رکھتا ہے موتی صدف کے سینے میں
جو بحر و بر سے گھٹائیں نئی اٹھاتا ہے
جوکوه و وادی و صحرا کے ذرے ذرے میں
سحر کی پہلی کرن بن کے جگمگاتا ہے
وہ خود ہے محور عالم اور ایک عالم کو
وہ ایک مرکز و محور پہ لے کے آتا ہے
جلا کے وحدتِ روحانیت کا ایک چراغ
وہ اس چراغ کی لو اور بھی بڑھاتا ہے
نثار ہونے کو آتے ہیں اس پہ پروانے
وہ جب دلوں پہ وفا کے دیے جلاتا ہے
ہزار بھڑکے جہاں میں شرار بولہبی
چراغ مصطفوی اور جگمگاتا ہے
یہی خدا کی مشیت کا ہے عمل اے دوست !
یہ اس لئے کہ خلیفہ خدا بناتا ہے

(عبدالسلام اختر)
(ماہنامہ خالد مئی ۲۰۰۳)

Read Previous

قدرت ثانیہ یعنی خلافت احمدیہ

Read Next

وصیت کا نظام اور جنت کا وعدہ

Most Popular