• 2 نومبر, 2026

چشم بینا حسن فانی کی تماشائی نہیں

دِل لگاویں جو صنم سے ہم وہ شیدائی نہیں
چَشمِ بِینا حُسن فانی کی تماشائی نہیں!
اِک قَدَح پی کر نہ جس کا تا اَبد رہوے خُمار
اہلِ دِل اس جامِ صہبا کے تمنائی نہیں!
مرغ دل! بچ کر تو رکھیو دامِ اُلفت سے قدم
زُلف کے پھندے میں پھنسنا کارِ دانائی نہیں
اس جہاں میں دوستوں سے کیا رکھے کوئی اُمید
زیرِ گَردُوں پوچھتا بھائی کو یاں بھائی نہیں
اپنی نظروں میں اگر کچھ مردِ میداں ہیں تو وہ
سچ کے کہہ دینے میں جن کو خوفِ رسوائی نہیں!
جوش ہے طاعَت کا دل میں اور عِبادت کےلئے
وائے قسمت! پر مُیَسَّر کُنجِ تنہائی نہیں!
آشناؔ کچھ عشق کا دھندا خدارا چھیڑیئے
صوفیانہ یہ ادا تیری ہمیں بھائی نہیں!

(بخار دل صفحہ22۔23)

Read Previous

الفضل آن لائن 17 اگست 2021

Read Next

آج کی دعا

Most Popular