• 2 نومبر, 2026

اوصاف ِقرآن مجید

نور فرقاں ہے جو سب نوروں سے اَجلی ٰنکلا
پاک وہ جس سے یہ انوار کا دریا نکلا
حق کی توحید کا مرجھا ہی چلا تھا پودا
ناگہاں غیب سے یہ چشمہ اصفی نکلا
یا الٰہی تیرا فرقاں ہے کہ اک عالَم ہے
جو ضروری تھا وہ سب اس میں مہیا نکلا
سب جہاں چھان چکے ساری دکانیں دیکھیں
مئے عرفان کا یہی ایک ہی شیشہ نکلا
کس سے اس نور کی ممکن ہو جہاں میں تشبیہ
وہ تو ہر بات میں ہر وصف میں یکتا نکلا
پہلے سمجھے تھے کہ موسیٰ کا عصا ہے فرقاں
پھر جو سوچا تو ہر اک لفظ مسیحا نکلا
ہے قصور اپنا ہی اندھوں کا وگرنہ وہ نور
ایسا چمکا ہے کہ صد نَیّرِ بیضا نکلا
زندگی ایسوں کی کیا خاک ہے اس دنیا میں
جن کا اس نور کے ہوتے بھی دل اَعمیٰ نکلا
جلنےسے آگے ہی یہ لوگ تو جل جاتے ہیں
جن کی ہر بات فقط جھوٹ کا پتلا نکلا

(در ثمین)

Read Previous

الفضل آن لائن 23 اکتوبر 2021

Read Next

انسان کى تو کوئى حىثىت ہى نہىں ہے

Most Popular