• 2 نومبر, 2026

دُعائیہ کلام

ٹال دے سر سے سب بلاؤں کو
بھیج رحمت بھری گھٹاؤں کو
آنکھ پُر نم ہے شدّتِ غم سے
دور کر دے تُو ابتلاؤں کو
تُو غفور و رحیم ہے مولا
بخش بندے کی سب خطاؤں کو
گردشِ وقت پر شکنجہ کَس
نرم کردے مری سزاؤں کو
اب تو اپنی گرفت میں لے لے
اِن دکھاوے کے پارساؤں کو
سر پہ سایہ رہے محبّت کا
کر عطا لمبی عمر ماؤں کو
پُھول مہکے ہیں، رقص میں ہے نسیم
دور گلشن سے رکھ خزاؤں کو
اور تیرے سوا سُنے گا کون
میری اِن دکھ بھری فغاؤں کو
تُو ہی تو آخری سہارا ہے
بخش بشریٰ کی سب خطاؤں کو

(بشریٰ سعید عاطف۔ مالٹا)

Read Previous

جماعت کى انتظامىہ کو کوشش کرنى چاہئے

Read Next

سورۃ النور اور الفرقان کا تعارف (از حضرت خلیفۃ المسیح الرابع)

Most Popular