• 18 اکتوبر, 2026

چھوٹی مگر سبق آموز بات

بعض لوگ معمولی اختلافات کی بناء پر دوسروں کے عیب پھیلانا شروع کر دیتے ہیں تاکہ معاشرے میں اس شخص کو بدنام کیا جاسکے۔ یہ ایک نہایت ناپسندیدہ فعل ہے۔ اس سے اجتناب کرنا چاہیئے۔ اللّٰہ تعالیٰ ستّار ہے اور پردہ پوشی کوپسند کرتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کی ستّاری کی صفت کو اپناتے ہوئے اپنے بھائیوں کی پردہ پوشی کرنی چاہیئے اور چھوٹی چھوٹی باتوں کو انا کا مسئلہ بنانے کی بجائے عفو و درگزر سے کام لینا چاہیئے۔

حضرت ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے کہ رسول اللّہﷺ نے فرمایا کہ ’’جو مومن اپنے بھائی کے عیب کو دیکھ کر اس کی پردہ پوشی کرے گا تو اللّہ تعالیٰ اس کو جنت میں داخل کر دے گا۔‘‘

(مجمع الزوائد جلد6 صفحہ268)

(مدیحہ مصّور کاہلوں۔ ریجائنا، کینیڈا)

Read Previous

ہیومینیٹی فرسٹ انٹرنیشنل کانفرنس 2021

Read Next

الفضل آن لائن 20 نومبر 2021

Most Popular