• 18 اکتوبر, 2026

ارشاد باری تعالیٰ

وَ لَا تُطِعۡ کُلَّ حَلَّافٍ مَّہِیۡنٍ ﴿ۙ۱۱﴾ ہَمَّازٍ مَّشَّآءٍۭ بِنَمِیۡمٍ ﴿ۙ۱۲﴾ مَّنَّاعٍ لِّلۡخَیۡرِ مُعۡتَدٍ اَثِیۡمٍ ﴿ۙ۱۳﴾ عُتُلٍّۭ بَعۡدَ ذٰلِکَ زَنِیۡمٍ ﴿ۙ۱۴﴾ اَنۡ کَانَ ذَا مَالٍ وَّ بَنِیۡنَ ﴿ؕ۱۵﴾

(القلم: 11-15)

ترجمہ: اور تُو ہرگز کسی بڑھ بڑھ کر قسمیں کھانے والے ذلیل شخص کی بات نہ مان ۔(جو) سخت عیب جو (اور) چغلیاں کرتے ہوئے بکثرت چلنے والا ہے۔(جو) بھلائی سے بہت روکنے والا، حد سے تجاوز کرنے والا (اور) سخت گنہگار ہے۔بہت سخت گیر۔ اس کے علاوہ ولدِ حرام ہے۔(کیا محض اس لئے اکڑتا ہے) کہ وہ دولت مند اور (بڑی) آل اولاد والا ہے۔

Read Previous

الفضل کے حوالہ سے ایک تبصرہ

Read Next

رِفق اور نرمی

Most Popular