• 2 نومبر, 2026

نور کی برسات سے روشن جہاں ہو جائے گا

نور کی برسات سے روشن جہاں ہو جائے گا
جب چراغِ عشق ہر سو ضَوفشاں ہو جائے گا
زندگی پھولے پھلے گی اک نئے انداز سے
زندگی کا لمحہ لمحہ ارمغاں ہو جائے گا
روشنی ہوگی یہیں پر دیدہ و دل فرشِ راہ
آسماں پھر سے زمیں پر مہرباں ہو جائے گا
پیار کی قسمت میں لکھ دی ہیں فلک نے عظمتیں
جو اٹھا اس کے مقابل پر دھؤاں ہو جائے گا
ایک خوشبو پھیلتی جائے گی اوجِ وقت کی
چار سو سب کو بہاروں کا گماں ہو جائے گا
تب زمیں دے گی محبت کی ہوا کو راستہ
آسماں بھی ہمرکاب کارواں ہو جائے گا
جب بھی دیکھیں گےاٹھا کر اپنے ہاتھوں میں کتاب
زندگی کا فلسفہ سب پر عیاں ہو جائے گا

(عبد الصمد قریشی)

Read Previous

الفضل آن لائن 16 دسمبر 2021

Read Next

معاشرے میں ملنے جلنے کے کچھ آداب

Most Popular