• 2 نومبر, 2026

شکستگی کے عذاب میں بھی، وہ ایک کوہِ گراں تھا شاید

شکستگی کے عذاب میں بھی، وہ ایک کوہِ گراں تھا شاید
مصیبتوں کی عجیب رت تھی، مگر وہ عہدِ رواں تھا شاید

رکاوٹیں تھیں ہر ایک جانب، کٹھن بھی تھا راستہ وہ لیکن
وہ شخص ان سب مصیبتوں میں بھی ایک سیل رواں تھا شاید

بتاؤں کیا کیا، دکھاؤں کیا کیا، سناؤں اک داستانِ ماضی
جو ہے تو ماضی مگر ہمارے لیے وہ روشن نشاں تھا شاید

بقول اس کے وہ دست و بازو جو اک اشارے پہ جان دیتا
یہ باتیں اب تو ہوئیں پرانی، مگر یہ اس کا گماں تھا شاید

(عارفین احمد اکبر)

Read Previous

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تعلیم اور ہم سے تقاضے

Read Next

سورۃ الدُّخان، الجاثیہ، الاَحقاف، محمدؐ اور الفتح کا تعارف (حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ)

Most Popular