• 18 اکتوبر, 2026

فقہی کارنر

ایک زرگر کی طرف سے سوال ہوا کہ پہلے ہم زیوروں کے بنانے کی مزدوری کم لیتے تھے اور ملاوٹ ملا دیتے تھے ۔اب ملاوٹ چھوڑ دی ہے اور مزدوری زیادہ مانگتے ہیں تو بعض لوگ کہہ دیتے ہیں کہ ہم مزدوری وہی دینگے جو پہلے دیتے تھے تم ملاوٹ ملالو ۔ ایسا کام ہم ان کے کہنے سے کریں یہ نہ کریں؟

فرمایا: کھوٹ والا کام ہرگز نہیں کرنا چاہئے اور لوگوں کو کہہ دیا کرو کہ اب ہم نے تو بہ کر لی ہے جوایسا کہتے ہیں کہ کھوٹ ملا دو وہ گناہ کی رغبت دلاتے ہیں ۔ پس ایسا کام ان کے کہنے پر بھی ہرگز نہ کرو۔ برکت دینے والا خدا ہے اور جب آدمی نیک نیتی کے ساتھ ایک گناہ سے بچتا ہے تو خداضرور برکت دیتا ہے۔

(الحکم 24؍اپریل 1903 صفحہ10)

(داؤد احمد عابد ۔ استاد جامعہ احمدیہ برطانیہ)

Read Previous

چھوٹی مگر سبق آموز بات

Read Next

حضرت اقدس مسیح موعود ؑ کا مہمانوں سے حسن سلوک

Most Popular