• 18 اکتوبر, 2026

حصارِ عا فیت، دارالسکینہ یہ خلافت ہے

مصائب کے سمندر میں سفینہ یہ خلافت ہے
ہےمنزل آسماں بے شک، پہ زینہ یہ خلافت ہے

سجاتےہیں دکانوں پر سبھی خود ساختہ گوہر
نظامِ آسمانی کا نگینہ یہ خلافت ہے

نہیں ہے زندگی اس میں جسے مذہب وہ کہتے ہیں
دھڑکتا دل ہوا جس کا وہ سینہ یہ خلافت ہے

اترتا آسماں سے ہےضمانت زندگی کی ہے
مصفّی آب ہے اور آبگینہ یہ خلافت ہے

وسیلے اور بھی ہوتے رہے ہر دور میں پہلے
خدا کی بندگی کا اب قرینہ یہ خلافت ہے

سکینت ڈھونڈنے والو! ادھر آؤ، ادھر دیکھو
حصارِعافیت، دارالسکینہ یہ خلافت ہے

دکھوں دردوں کے دریا جس سمندر میں گریں آکر
جہاں بھر کے غموں کا وہ دفینہ یہ خلافت ہے

منور رحمتوں سے برکتوں سے آستانہ اک
دعاؤں سے بھرا ہے جو خزینہ یہ خلافت ہے

(ابن الواحد)

Read Previous

الفضل آن لائن 11 فروری 2022

Read Next

طبیب ِ اعظمؐ (قسط۔1)

Most Popular