• 18 اکتوبر, 2026

اوصاف ِقرآن مجید

نور فرقاں ہے جو سب نوروں سے اَجلیٰ نکلا
پاک وہ جس سے یہ انوار کا دریا نکلا

حق کی توحید کا مرجھا ہی چلا تھا پودا
ناگہاں غیب سے یہ چشمہ اصفیٰ نکلا

یا الٰہی! ترا فرقاں ہے کہ اک عالَم ہے
جو ضروری تھا وہ سب اس میں مہیا نکلا

سب جہاں چھان چکے ساری دکانیں دیکھیں
مئے عرفان کا یہی ایک ہی شیشہ نکلا

کس سے اس نور کی ممکن ہو جہاں میں تشبیہ
وہ تو ہر بات میں، ہر وصف میں یکتا نکلا

پہلے سمجھے تھے کہ موسیٰ کا عصا ہے فرقاں
پھر جو سوچا تو ہر اک لفظ مسیحا نکلا

ہے قصور اپنا ہی اندھوں کا، وگرنہ وہ نور
ایسا چمکا ہے کہ صد نیر بیضا نکلا

زندگی ایسوں کی کیا خاک ہے اس دنیا میں
جن کا اس نور کے ہوتے بھی دل اَعمیٰ نکلا

جلنےسے آگے ہی یہ لوگ تو جل جاتے ہیں
جن کی ہر بات فقط جھوٹ کا پتلا نکلا

(براہین احمدیہ، روحانی خزائن جلد1 صفحہ305-306)

Read Previous

اگر ملنے پر ایک شخص تمہارے لئے نیک جذبات کا اظہار کرے

Read Next

خلاصہ خطبہ جمعہ بیان فرمودہ 11؍فروری 2022ء

Most Popular