• 18 اکتوبر, 2026

فقہی کارنر

رشوت کے روپیہ سے بنائی گئی جائیداد

ایک صاحب نے سوال کیا کہ اگر ایک شخص تائب ہو تو اس کے پاس جو اول جائیداد رشوت وغیرہ سے بنائی ہواس کا کیا حکم ہے۔ فرمایا: شریعت کا حکم ہے کہ تو بہ کرے تو جس جس کا وہ حق ہے وہ اسے پہنچایا جاوے۔ رشوت اور ہدیہ میں ہمیشہ تمیز چاہیے۔ رشوت وہ مال ہے کہ جب کسی کی حق تلفی کے واسطے دیا یا لیا جاوے ورنہ اگر کسی نے ہمارا ایک کام محنت سے کر دیا ہے اور حق تلفی بھی کسی کی نہیں ہوئی تو اس کو جو دیا جاوے گا۔ وہ اس کی محنت کا معاوضہ ہے۔

(البدر 27مارچ 1903 صفحہ76)

(داؤد احمد عابد۔ مربی سلسلہ برطانیہ)

Read Previous

چھوٹی مگر سبق آموز بات

Read Next

سبحان من یرانی کا نادر و نایاب نسخہ

Most Popular