• 18 اکتوبر, 2026

ہر نام سے پہلے

وہ حسن ہے ہر ماہ سے، گلفام سے پہلے
وہ در ہے ہمیں اپنے در و بام سے پہلے

ہم نامِ محمؐد کی ثنا کرتے رہیں گے
یہ کام ہمارا ہے، ہر اِک کام سے پہلے

یہ دل ہے کہ اُس پیار میں مخمور ہے اتنا
یہ عشق چھلک جاتا ہے ہر جام سے پہلے

تم اُن کو بھلا ہم سے جدا کیسے کرو گے
وہ نام ہمارا ہے، ہر اِک نام سے پہلے

اُس راہ کا ہر زخم کہ تسکین ہے جاں کی
وہ پیارا ہے ہر چین سے، آرام سے پہلے

ہم اُس کی محبت میں یہ غم سہتے رہیں گے
یہ سوچ لیا ہم نے ہر انجام سے پہلے

(بشارت محمود طاہر۔ جرمنی)

Read Previous

شیطان انسان کا ازل سے دشمن ہے

Read Next

سپورٹس ریلی مجلس انصار اللہ ناروے

Most Popular