• 18 اکتوبر, 2026

انسان کے تین طبقے

اسلام میں انسان کے تین طبقے رکھے ہیں۔ ظَالِمٌ لِّنَفْسِہٖ، مُقْتَصِدٌ، سَابِقٌۢ بِالۡخَیۡرٰتِ۔

ظَالِمٌ لِّنَفْسِہٖ تو وہ ہوتے ہیں جو نفسِ امّارہ کے پنجے میں گرفتار ہوں۔ اور ابتدائی درجہ پر ہوتے ہیں۔ جہاں تک ان سے ممکن ہوتا ہے وہ سعی کرتے ہیں کہ اس حالت سے نجات پائیں۔

مُقْتَصِدٌ وہ ہوتے ہیں جن کو میانہ رَو کہتے ہیں۔ ایک درجہ تک وہ نفس امّارہ سے نجات پا جاتے ہیں۔ لیکن پھر بھی کبھی کبھی اس کا حملہ اُن پر ہوتا ہے اور وہ اس حملہ کے ساتھ ہی نادم بھی ہوتے ہیں، پورے طور پر ابھی نجات نہیں پائی ہوتی۔

مگر سَابِقٌۢ بِالۡخَیۡرٰتِِ وہ ہوتے ہیں کہ اُن سے نیکیاں ہی سرزد ہوتی ہیں اور وہ سب سے بڑھ جاتے ہیں۔ ان کی حرکات و سکنات طبعی طور پر اس قسم کی ہو جاتی ہیں کہ اُن سے افعالِ حسنہ ہی کا صدور ہوتا ہے۔ گویا ان کے نفس امّارہ پر بالکل موت آ جاتی ہے اور وہ مطمئنہ حالت میں ہوتے ہیں۔ ان سے اس طرح پر نیکیاں عمل میں آتی ہیں گویا وہ ایک معمولی امر ہے۔ اس لئے ان کی نظر میں بعض اوقات وہ امر بھی گناہ ہوتا ہے جو اس حد تک دوسرے اس کو نیکی ہی سمجھتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کی معرفت اور بصیرت بہت بڑھی ہوئی ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے جو صوفی کہتے ہیں حَسَنَاتُ الْاَبْرَارِ سَیِّئَاتُ الْمُقَرَّبِیْنَ۔

(ملفوظات جلد4 صفحہ442-443 ایڈیشن 1988ء)

Read Previous

مالدار لوگ بلند درجوں پر پہنچ گئے

Read Next

فحشاء پر اگر اصرار نہ ہو اور اللہ تعالیٰ کا خوف ہو تو خدا تعالیٰ بخش دیتا ہے

Most Popular