• 18 اکتوبر, 2026

خون ہی خون میں ڈوبا رہا تشنہ کوئی

خون ہی خون میں ڈوبا رہا تشنہ کوئی
’’سانحہ ایسا نہ گزرا لبِ دریا کوئی‘‘

حشر تک یاد دلائے گا مکیں کیسے تھے
بین کرتا ہوا سلگا ہوا خیمہ کوئی

کربلا لے کے چلا آتا ہے ہر سمت دیاؔ!
مکتبِ عشق پہ لکھا ہوا سجدہ کوئی

(دیا جیم۔ فیجی)

Read Previous

اگر مجلس سے اٹھایا جائے

Read Next

ممبرات لجنہ بھارت کی قربانیاں اور خلافت سے وابستگی

Most Popular