• 18 اکتوبر, 2026

ارشاد باری تعالیٰ

اِقۡرَاۡ بِاسۡمِ رَبِّکَ الَّذِیۡ خَلَقَ ۚ﴿۲﴾ خَلَقَ الۡاِنۡسَانَ مِنۡ عَلَقٍ ۚ﴿۳﴾ اِقۡرَاۡ وَ رَبُّکَ الۡاَکۡرَمُ ۙ﴿۴﴾ الَّذِیۡ عَلَّمَ بِالۡقَلَمِ ۙ﴿۵﴾ عَلَّمَ الۡاِنۡسَانَ مَا لَمۡ یَعۡلَمۡ ؕ﴿۶﴾ کَلَّاۤ اِنَّ الۡاِنۡسَانَ لَیَطۡغٰۤی ۙ﴿۷﴾ اَنۡ رَّاٰہُ اسۡتَغۡنٰی ﴿ؕ۸﴾ اِنَّ اِلٰی رَبِّکَ الرُّجۡعٰی﴿۹﴾

(العلق: 2-9)

ترجمہ: پڑھ اپنے ربّ کے نام کے ساتھ جس نے پیدا کیا۔ اس نے انسان کو ایک چمٹ جانے والے لوتھڑے سے پیدا کیا۔ پڑھ، اور تیرا رب سب سے زیادہ معزّز ہے۔ جس نے قلم کے ذریعہ سکھایا۔ انسان کو وہ کچھ سکھایا جو وہ نہیں جانتا تھا۔ خبردار! انسان یقیناً سرکشی کرتا ہے۔ (اس لئے) کہ اس نے اپنے آپ کو بے نیاز سمجھا۔ یقیناً تیرے ربّ ہی کی طرف لَوٹ کر جانا ہے۔

Read Previous

اردو زبان کے رموز اوقاف

Read Next

پہلی وحی کی کیفیت

Most Popular