• 18 اکتوبر, 2026

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے نئے سال میں محاسبہ کرنے سے متعلق سوالات کی روشنی میں

اک شام ڈھلی پل بِیت گیا وقت پھر ہم سے جیت گیا
تف ہے گر سوچا سب کو پر مولا کی طرف نہ چِیت گیا

یوں گنگناتے پھرتے ہیں جیسے نفس اپنا ہو مار لیا
جیسے عہد وفا کی بیعت میں تن من دھن سب وار دیا

پوچھا ہے کیا خود سے ہم نے جو یہ برس بس گزار دیا
ظلم شرارت دھوکے اور خیانت سے کیا اجتناب کیا

کیا نَجس خیال و محفل سے کبر ریا و ترشی سے کنار کیا
کیا حلم عجز و ہمدردی ، کیا عفو و درگزر اختیار کیا

کیا نفسانی جوشوں سے بچتے ہوئے درود و استغفار کیا
جو گرد ذہن و دل پر تھی کیا اس کو کھرچ کے اتار دیا

یہ ارض بہشت ہو جائے گی جو کہا مسرور کا مان لیا
طوق مسیح کی اطاعت کا جب اپنے گلے میں ڈال لیا

یہ دل ناچے گائے گا جس دن خدا کو پہچان گیا
جھکو طاہر در پر اس کے یہ من سر خوشی کا جان گیا

(طاہر احمد ۔فن لینڈ)

Read Previous

نماز میں خشوع وخضوع

Read Next

سیرۃ النبی ﷺ ، پانچ بنیادی اخلاق کی روشنی میں

Most Popular