• 18 اکتوبر, 2026

خلافت کی آغوش

صد ساز ہیں دنیا کے اک ساز ہے روحانی
رس گھولے جو کانوں میں ہر روح ہو مستانی

نغمہ ہے محبت کا دل کھنچے چلے آتے
پُرکیف سرودوں سے ہر روح ہو وجدانی

اخلاق کی قدریں ہیں پیغامِ اخوت ہے
الفت کی صداؤں میں اقدار ہیں انسانی

طوفاں میں سفینے ہیں گرداب ہے طغیانی
اک نوح کی کشتی کی مولا کرے نگرانی

آجاؤ خلافت کی آغوش میں اے لوگو!
موعود زمانہ ہے اور ساعتِ نورانی

اس عہدِ مفاسد میں ظلمات کی شورش میں
حافظ ہے یہی ملجا اور مامنِ یزدانی

(حافظ محمد مبرور)

Read Previous

بارگاہِ ایزدی

Read Next

سیّدنا حضرت مرزا مسرور احمدخلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ کا خطبہ جمعہ مورخہ 20دسمبر 2019ء بمقام مسجد مبارک، اسلام آباد، ٹلفورڈ یو کے

Most Popular