• 3 نومبر, 2026

مناجات

تیری رحمت کا طلبگار بھی ہوں
اور خطاؤں پر شرمسار بھی ہوں
تجھ سے مانگوں بھی تو کس منہ سے
کیا کروں میں کہ گنہ گار بھی ہوں
سر کی نخوت سے پریشاں ہو کر
تیرے قدموں میں نگوں سار بھی ہوں
دے شفا اپنے کرم سے مولیٰ
جاں گھٹی جاتی ہے بیمار بھی ہوں
دل میں ہے گرچہ معاصی کا ہجوم
تیرا بندہ ہوں وفادار بھی ہوں
تیرا غفراں ہے غضب پر حاوی
تیری بخشش کا سزاوار بھی ہوں

(تنویر احمد ناصر۔قادیان)

Read Previous

آج کی دعا

Read Next

یاد ہیں ہم کو بھی رنگا رنگ بزم آرائیاں

Most Popular