• 2 نومبر, 2026

رکھیں گے تجھے یاد، تیرے چاہنے والے

اے نورِ نظر، لختِ جگر، نازوں کے پالے
تو جس کی امانت تھی اب اُس کے حوالے
اس قادرِمطلق کے ہیں دستور نرالے
چاہے جسے، اپنا وہ محبوب بنا لے
کہتا تھا لوٹ آؤں گا میں شام سے پہلے
کیا ایسے ہوا کرتے ہیں گھر لوٹنے والے
کس دیس میں کھوئے ہو، نہ کوئی خبر ہے
تھک ہار کے بیٹھے ہیں سبھی ڈھونڈنے والے
’’جاتے ہو مری جان، خدا حافظ و ناصر‘‘
ہم اتنا ہی کہتے ہیں، جا رب کے حوالے
اس ماہِ محرم میں ہوئی تیری شہادت
رکھیں گے تجھے یاد، تیرے چاہنے والے

(آفتاب احمد اختر)

Read Previous

اے اللہ !خرچ کرنے والے سخی کو اور دے

Read Next

’’الفضل‘‘ سے میری اور میرے خاندان کی مثالی محبت

Most Popular