• 28 اکتوبر, 2026

اگر جابر حکمران ہوں تو کىا کرنا چاہىے؟

 سلمہ بن ىزىد الجعفى نے رسول پاک صلى اللہ علىہ وسلم سے عرض کى۔ ىا رسول اللہؐ! اگر ہم پر اىسے حکمران مسلط ہوں جو ہم سے اپنا حق مانگىں مگر ہمارا حق ہمىں نہ دىں تو اىسى صورت مىں آپ ہمىں کىا حکم دىتے ہىں؟ رسولِ پاک صلى اللہ علىہ وسلم نے اس سے اِعراض کىا۔ اُس نے اپنا سوال پھر دہراىا۔ آپؐ نے پھر اِعراض کىا۔ اُس نے دوسرى ىا تىسرى دفعہ پھر اپنا سوال دہراىا۔ جس پر اشعث بن قىس نے اُنہىں پىچھے کھىنچا۔ تب رسولِ پاک صلى اللہ علىہ وسلم نے فرماىا: اىسے حالات مىں اپنے حکمرانوں کى بات سنو اور اُن کى اطاعت کرو۔ جو ذمہ دارى اُن پر ڈالى گئى ہے اُس کا مؤاخذہ اُن سے ہو گا اور جو ذمہ دارى تم پر ڈالى گئى ہے اُس کا مؤاخذہ تم سے ہو گا۔

(خلاصہ ازمسلم کتاب الامارۃ باب فى طاعۃ الامراء وان منعوا الحقوق حدىث نمبر4782)

Read Previous

ارشاد باری تعالیٰ

Read Next

جب تک حضور آپ کو مخاطب نہ کرتے آپ کبھى نظر اُٹھا کر حضور کے چہرہ مبارک کى طرف نہ دىکھتے

Most Popular