• 18 اکتوبر, 2026

فقہی کارنر

جہاد کا لفظ دینی لڑائیوں کے لئے مجازا بولا گیا ہے

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فر ماتے ہیں :
’’جاننا چاہئے کہ جہاد کا لفظ جُہد کے لفظ سے مشتق ہے جس کے معنے ہیں کوشش کرنا اور پھر مجاز کے طور پر دینی لڑائیوں کے لئے بولا گیا اور معلوم ہوتا ہے کہ ہندوؤں میں جو لڑائی کو یُدّہ کہتے ہیں دراصل یہ لفظ بھی جہاد کے لفظ کا ہی بگڑا ہوا ہے ۔ چونکہ عربی زبان تمام زبانوں کی ماں ہے اور تمام زبانیں اس میں سے نکلی ہیں اس لئے یُدّہ کا لفظ جو سنسکرت کی زبان میں لڑائی پر بولا جاتا ہے در اصل جُہد یا جہاد ہے اور پھر جیم کویا کے ساتھ بدل دیا گیا اور کچھ تصرف کر کے تشدید کے ساتھ بولا گیا‘‘

(گورنمنٹ انگریزی اور جہاد، روحانی خزائن جلد17 صفحہ3)

(داؤد احمد عابد۔ استاد جامعہ احمدیہ یو کے)

Read Previous

چھوٹی مگر سبق آموز بات

Read Next

کتاب تعلیم کی تیاری (قسط 35)

Most Popular