• 18 اکتوبر, 2026

فقہی کارنر

ایک مجلس میں تین طلاق کی شرعی حیثیت

ایک شخص نے حضرت مسیح موعود ؑ کو خط لکھا اور فتویٰ طلب کیا کہ ایک شخص نے از حد غصہ کی حالت میں اپنی عورت کو تین دفعہ طلاق دی۔ دلی منشاء نہ تھا۔ اب ہر دو پریشان اور اپنے تعلقات کو توڑنا نہیں چاہتے۔ حضرت صاحبؑ نے جواب میں تحریر فرمایا:۔
’’فتویٰ یہ ہے کہ جب کوئی ایک ہی جِلسہ میں طلاق دے تو یہ طلاق ناجائز ہے اور قرآن کے بر خلاف ہے اس لئے رجوع ہو سکتا ہے۔ صرف دوبار ہ نکاح ہو جانا چاہئے اور اسی طرح ہم ہمیشہ فتویٰ دیتے ہیں اور یہی حق ہے‘‘

(بدر 31 جنوری 1907ء صفحہ4)

(داؤد احمد عابد۔ استاد جامعہ احمدیہ بر طانیہ)

Read Previous

ایک سبق آموزبات

Read Next

حیاتِ نورالدینؓ (قسط 3)

Most Popular