• 3 نومبر, 2026
  1. Home
  2. نظم

Category: نظم

یَا حَفِیْظُ یَا عَزِیْزُ یَا رَفِیْقُ

یَا حَفِیْظُ یَا عَزِیْزُ یَا رَفِیْقُ

تیرے ہی بندے ہیں جو بیمار ہیں مضطرب ہیں اور کچھ لاچار ہیں جھولیاں پھیلائے کرتے ہیں صدا کرم کر اور اب اُٹھا لے یہ وباء التجائیں سب کی سن لے اے مجیب یَا حَفِیْظُ

سانجھی دعا

سانجھی دعا

غم سے بوجھل دلوں کی ہے سانجھی دعا، رحمتیں کر عطا ! ہم سبھی کو بچا ! میرے مالک خدا ! میرے خالق خدا ! دُور کر بدبلا ! ہم سبھی کو بچا ! آج

ابھی بھی وقت ہے مانگ لو اُسے، اُس سے

ابھی بھی وقت ہے مانگ لو اُسے، اُس سے

جدھر بھی دیکھو اس کا پرتَو نظر آتا ہے اک ذرا سوچ تیرا گیان کدھر جاتا ہے تیرے تغافل نے تجھے مار دیا اے شخص ورنہ اس کے جلوے پر وقت ٹھہر جاتا ہے تجھے

بن تیرے نہ چارا ہے

بن تیرے نہ چارا ہے

ہم درد کے ماروں کا اک تو ہی سہارا ہےگرداب میں کشتی ہے بڑی دور کنارہ ہےراہوں میں بھٹکتے ہیں منزل کا نشاں ہی نامایوسی نے پر اپنا ہر اور پسارا ہےتدبیریں بھی سب کر

تم اپنا بنا لو

تم اپنا بنا لو

گلشن میں نئے پھول کِھلے ہیں جو سنبھالو غنچے ہیں، انہیں تیز ہواؤں سے بچا لو پھینکا ہے جنہیں بادِ مخالف نے زمیں پر تم اپنا بنا لو انہیں مٹی سے اٹھا لو چہرے سے

خلافت تا قیامت رہے گی

خلافت تا قیامت رہے گی

خلافت ہماری سلامت رہے گی یہ ہم میں سدا تا قیامت رہے گی مسیح نے وصیت میں مژدہ سنایا سدا تم میں جاری خلافت رہے گی اگر تم نے تقویٰ دلوں میں بسایا تمہاری ہمیشہ

اک امتحان ہے

اک امتحان ہے

بےجان سی ہر جان ہے، اک امتحان ہے ہر ہر نگر ویران ہے، اک امتحان ہے کوئی کہیں نہ جا سکے، تالے لگے ہر موڑ پر گھر گھر بنا زندان ہے، اک امتحان ہے مندر،

کوئی بارش وہ برسا مولا

کوئی بارش وہ برسا مولا

کوئی بارش وہ برسا مولا پھر موسم سارے چمک اٹھیں پھر لوگ مبارک بادیں دیں پھر سجده گاہیں دمک اٹھیں کیا بھول ہوئی انسانوں سے ہم عرض کریں یہ رو رو کر اب معاف بھی

ہر دم خیر مانگو

ہر دم خیر مانگو

اٹھو سونے والو کرونا ہے آیا وہ دنیا کو دینے یہ پیغام لایا جو دنیا میں پڑ کر خدا کو تھے بھولے انہیں ایک جھٹکے سے رب نے جگایا گناہوں میں دنیا بڑھی جا رہی

خواہشِ دید کا جذبہ

خواہشِ دید کا جذبہ

یاد کے درد کا جب دل میں دھواں رہتا ہے خواہشِ دید کا ہر جذبہ جواں رہتا ہے قلبِ مضطر کو کسی طور نہیں ملتا قرار ہجر کا غم مری رگ رگ میں نہاں رہتا