سب مزارات اور درگاہیں ہیں بند ربِّ کعبہ کا ہے بس اِک در کھلا پہن کر ظالم کرونا کا لباس پھر رہا ہے ہر طرف کافر کھلا (عبدالکریم قدسی)
دوستو اب دین کی خدمت کی ہیں یہ ساعتیں صدق سے آئے گا جو اس کو ملیں گی برکتیں رغبتِ دنیا نہیں مقصودِ تخلیقِ جہاں عارضی ہے رونقِ دنیا و اس کی زینتیں دین کو
وہ مالا مال کرے بن کہے دعاؤں سے وہ ماں نہیں ہے مگر کم نہیں ہے ماؤں سے خدا نے جیسے ہمیں دھوپ میں سنبهالا ہے ہماری نسلیں بھی محروم ہوں نہ چھاؤں سے انہوں
گھروں میں اپنے ہی آپ رہ کر خوشی سے رہنا کمال کیا ہے کسی کی خاطر بھی گھر میں خود کو یوں باندھ لینا کمال یہ ہے بہت ہی دوری تھی گھر میں سب کے
کرونا نے سبھی کو گھر میں بٹھا دیاسب کو خدائے قادر کے آگے جھکا دیاجو مبتلا تھے شرک کی لعنت میں ہر گھڑیتوحید کا انہیں بھی رستہ دکھا دیا (خواجہ عبدالمومن۔ ناروے)
بہار باغ و چمن لَا اِلٰہ اِلَّا اللّٰہنکھارِ سرو و سمن لَا اِلٰہ اِلَّا اللّٰہ تمام ارض و سما میں ہے روشنی اس کیہے مہرِ حق کی کرن لَا اِلٰہ اِلَّا اللّٰہ یہی ہے جس
ٹل جائے گی تقدیر سے آفاتِ کرونابدلیں گے دعاؤں سے ہی حالاتِ کرونا رحمت سے خداوند کی مایوس نہ ہوناوا اس کا ہے در آؤ مناجات کرونا بے چین، فکرمند، پریشان ہو گر تمسجدوں میں
ہم وہ نہیں کہ جن سے زمینیں وفا کریںہم وہ ہیں جو کہ فضل پہ ذکرِ خدا کریں ہم وہ نہیں خدا پہ جو رکھتے نہیں یقینہم وہ ہیں جو کہ جان بھی اس پہ
جہاں میں حق کی ہیں آواز حضرت ہیں کرتے آپ پر ہم ناز حضرت ہمارے حضرت مسرور آقا ہماری جان اور دَم ساز حضرت خلافت سے ہمیں قلبی محبت خدائی اِس میں ہیں انداز حضرت
مشکل ہے پڑی ہم پر بن جا تو سہارا ناچیز فقیروں نے ہے پھر تجھ کو پکارا اک آہوں بھرے دل سے طالب ہوں رحم کا دیکھوں تیری رحمت کا بھرپور نظارہ تقدیر بدلنے پر