• 2 نومبر, 2026
  1. Home
  2. نظم

Category: نظم

مگر تم ہو کہ پہلوں کی مثالوں سے نہیں ڈرے

مگر تم ہو کہ پہلوں کی مثالوں سے نہیں ڈرے

اندھیروں سے نہیں ڈرتے، اجالوں سے نہیں ڈرتےخمارِ عشق ہے، سختی کے پیالوں سے نہیں ڈرتے محمد مصطفیٰؐ کی ہے غلامی کا نشہ ہم کوہم ایسے چھوٹے موٹے تاج والوں سے نہیں ڈرتے وہ بیوہ

حمد باری تعالیٰ

حمد باری تعالیٰ

چاند سورج اور زمیں میں فاصلے رکھتا ہے کونکہکشاں میں کہکشاں کے سلسلے رکھتا ہے کونحسن والے کس کی شہہ پر ناز کرتے ہیں یہاںعاشقوں کے بستروں پر رتجگے رکھتا ہے کونکون کہتا ہے کہ

قومی نظم

قومی نظم

قومی نظممنشی عبد القدیر حیرت (بکنگ کلرک ریلوے اسٹیشن بھٹنڈہ) زمانہ اے نبی! مشکور ہے تیری عنایت کادیا تو نے سبق مخلوق کو خالق کی وحدت کاتری خلقت سے پہلے یہ عرب والوں کی تھی

کچھ ہو گئے فرعون، کچھ ہامان ہو گئے

کچھ ہو گئے فرعون، کچھ ہامان ہو گئے

کچھ ہو گئے فرعون، کچھ ہامان ہو گئےجنت بدر ہوئے تو کیا انسان ہو گئےفطرت پہ اپنی جن کو بنایا خدا نے آپبندے وہ اُس خدا سے ہی انجان ہو گئےیزداں سے بول چال پہ

چولہ بابا نانکؒ

چولہ بابا نانکؒ

چولہ بابا نانکؒ(کلام حضرت مسیح موعودؑ) وہ پھرتا تھا کوچوں میں چولہ کیساتھدکھاتا تھا لوگوں کو قدرت کے ہاتھ کوئی دیکھتا جب اسے دور سےتو ملتی خبر اس کو اس نور سے جسے دور سے

وطن سے محبت ایمان کا حصّہ ہے

وطن سے محبت ایمان کا حصّہ ہے

حُبُّ الْوَطَنِ مِنَ الْاِیْمَانِ(وطن سے محبت ایمان کا حصّہ ہے) مری دھرتی، مرا ایمان، پاکستان پاکستانہے میرا دل، ہے میری جان، پاکستان پاکستان اندھیری رات میں روشن، ستارہ تیرا ہر پل ہوتُو صبحِ نو کا

دشتِ جنوں میں عقل کا سیلاب آ گیا

دشتِ جنوں میں عقل کا سیلاب آ گیا

دشتِ جنوں میں عقل کا سیلاب آ گیا(کلام محترم چوہدری محمد علی مضطر) گھر کے کواڑ زیرِ زباں بولنے لگےمالک چلے گئے تو مکاں بولنے لگے دشمن اگر ہماری زباں بولنے لگےبجھ جائے آگ اور

جانے کیا بات ہے وابستہ رُخِ یار کے ساتھ

جانے کیا بات ہے وابستہ رُخِ یار کے ساتھ

جانے کیا بات ہے وابستہ رُخِ یار کے ساتھشوقِ نظارہ بڑھے اور بھی دیدار کے ساتھ غیر تو غیر ہیں غیروں سے شکایت کیسیگھر مرا لُوٹا ہے اپنوں نے بھی اغیار کے ساتھ دلربا، دلنشیں،

مدینہ میں عبادت

مدینہ میں عبادت

حرم کی تو زیارت کر، مدینہ میں عبادت کرمحبت مانگ لے آکر، نہ اپنی یوں سیاست کرغلامان محمد ہیں مدینہ کی پنہ گہ میںیہاں دشمن اگر آئے تو اس کی بھی حفاظت کردرود اس پر،

نازِ محبت

نازِ محبت

نازِ محبت(کلام حضرت سیدہ نواب مبارکہ بیگمؓ) دنیا میں حاکموں کو حکومت پہ ناز ہےجو ہیں شریف ان کو شرافت پہ ناز ہے عابد کو اپنے زہد و عبادت پہ ناز ہےاور عالموں کو علم