علامات المقربین(کلام حضرت مسیح موعودؑ) خدا سے وہی لوگ کرتے ہیں پیارجو سب کچھ ہی کرتے ہیں اس پر نثار اسی فکر میں رہتے ہیں روز و شبکہ راضی وہ دلدار ہوتا ہے کب اُسے
سو بار چمن مہکا، سو بار بہار آئیدنیا کی وہی رونق، دل کی وہی تنہائی اک لحظہ بہے آنسو، اک لحظہ ہنسی آئیسیکھے ہیں نئے دل نے انداز شکیبائی اس موسمِ گل ہی سے بہکے
صحرا صحرا بات چلی ہے، نگری نگری چرچا ہےرات کے غم میں سورج سائیں بادل اوڑھے پھرتا ہے جھونکا جھونکا تیری خوشبو مجھ سے لپٹ کر گزری ہےریزہ ریزہ تیری خاطر میں نے جسم گنوایا
پردہ ہی بنتِ حوّا کا فخر و وقار ہےمستور جو نہیں ہے وہی اصل نار ہے روح و بدن کا کرب ہے، دل پر یہ بار ہےہر اجنبی نگاہ جو تقوی پہ وار ہے زیور
ہمارے موتی، ہمارے ہیرے جو ان کو بھائے، کمال ہے نا!ہمارے دشمن ہمارے نقشِ قدم پہ آئے، کمال ہے نا! وہ سات رنگوں کی ساری دنیا جو ہم سے چھینی گئی تھی ناحقتو ہم نے
وفات مسیح ناصری ؑ(کلام حضرت مسیح موعودؑ) کیوں نہیں لوگو تمہیں حق کا خیال؟دل میں اُٹھتا ہے مرے سَو سَو اُبال ابن مریم مر گیا حق کی قسمداخلِ جنت ہوا وہ محترم مارتا ہے اُس
غزل(کلام چوہدری محمد علی مضطر) اٹھتے اٹھتے نقاب چہروں کےڈھل گئے آفتاب چہروں کے ہم سے پوچھو عذاب چہروں کےہم بھی تھے ہمرکاب چہروں کے ہم ہیں قاری صحیفۂ رخ کےہم ہیں اہلِ کتاب چہروں
دل کی دھڑکن میں ہے تُو ہی تُوتیرا جلوہ مرے چار سُورات دن تیری ہے جستجواللّٰہ ہُوْ، اللّٰہ ہُوْ، اللّٰہ ہُوْ کلمۂ حق کی تُو ہے صداصبح کی تُو اذاں ہے خداتیرا ہی ذکر ہے
ہمیں سب غم اٹھانے ہیں لوائے مصطفیٰ ؐ تھامےمگر پھر گیت گانے ہیں لوائے مصطفیٰ ؐ تھامے خدا نے جو اتاری ہے اسی مشعل کی جگ مگ سےاندھیرے سب مٹانے ہیں لوائے مصطفیٰ ؐ تھامے چلے
(اسکاٹ لینڈ جانے کے لئے ہیتھرو ۔لندن کے مطار پر جہاز کا انتظار کرتے ہوئے چند اشعار موزوں ہوئے۔ بقیہ اشعار جہاز میں سفر کے دوران لکھے گئے۔ راشد) پھیلا ہے سامنے مرے لندن کا