• 2 نومبر, 2026
وید

وید

وید(کلام حضرت مسیح موعودؑ) ان کو سودا ہوا ہے ویدوں کاان کا دل مبتلا ہے ویدوں کا آریو! اس قدر کرو کیوں جوشکیا نظر آ گیا ہے ویدوں کا نہ کیا ہے نہ کر سکے

میں تجھے جب خط لکھوں

میں تجھے جب خط لکھوں

میں تجھے جب خط لکھوں خود کو سنبھالوں تو لکھوںپاک صاف و باوضو دل کو بنا لوں تو لکھوں اشک ہوویں روشنائی اور قلم یہ دل بنےپھر خیال و خواب کے کاغذ بچھا لوں تو

خلافت کیا ہے اکسیرِحیاتِ جاودانی ہے

خلافت کیا ہے اکسیرِحیاتِ جاودانی ہے

خلافت کیا ہے اکسیرِحیاتِ جاودانی ہے(کلام میر اللہ بخش تسنیم) خلافت نے کیا کونین کا مقصود آدم کوخلافت نے فرشتوں کا کیا مسجود آدم کو خدا کا ہاتھ پنہاں ہے خلافت کے ارادوں میںمرادیں حق

بیاں کروں ناں تو کیا کروں میں

بیاں کروں ناں تو کیا کروں میں

ہے ہم فقیروں پہ فضل اس کا، بیاں کروں ناں تو کیا کروں میںدیارِ دل میں ہے یار بستا، بیاں کروں ناں تو کیا کروں میں میں شکر تیرا خدائے محسن ادا کروں بھی تو

استعاروں میں جو بتائی ہے

استعاروں میں جو بتائی ہے

استعاروں میں جو بتائی ہےبات ان کی سمجھ میں آئی ہے جو گرجتے ہیں وہ برستے نہیںہم نے یہ بات آزمائی ہے تجھ کو کھونے کے بعد جانِ جہاںزندگی کرب میں بتائی ہے آرزو کے

مسرور کا خدا ہے مددگار دیکھنا

مسرور کا خدا ہے مددگار دیکھنا

(جناب عابد نے اپنا یہ کلام 2018ء کے جلسہ سالانہ کے موقعہ پر ایک ادبی نشست میں حضور انور ایدہ اللہ کی موجودگی میں پڑھ کر سنایا تھا) چبھنے نہ پائے اس کو کوئی خار

سرائے خام

سرائے خام

سرائے خام(کلام حضرت مسیح موعودؑ) دنیا کی حرص و آز میں کیا کچھ نہ کرتے ہیںنقصاں جو ایک پیسہ کا دیکھیں تو مرتے ہیں زر سے پیار کرتے ہیں اور دل لگاتے ہیںہوتے ہیں زر

’’خدا سے کبھی بے وفائی نہ کرنا‘‘

’’خدا سے کبھی بے وفائی نہ کرنا‘‘

کسی اور کی کبریائی نہ کرنا’’خدا سے کبھی بے وفائی نہ کرنا‘‘ ہو انسان تم یہ سمجھ لو خدا رااکڑ کر نہ چلنا، خدائی نہ کرنا مدلل، مکمل، حسیں بات ہو بسکوئی بات یونہی ہوائی

خلافت احمدیہ کے ساتھ عہد وفا

خلافت احمدیہ کے ساتھ عہد وفا

مقصودِ زندگی ہو اِطاعت خدا کرےحاصل رہے سدا یہ سعادت خدا کرے اخلاص اور وفا میں بڑھائیں قدم ہمیشٹوٹے کبھی ہماری نہ ہمت خدا کرے ہم اور ہماری نسل بھی تجھ سے جڑی رہےمحبوب ہو

ہر شہیدِ احمدیت کے نام

ہر شہیدِ احمدیت کے نام

نوٹ: خاکسار نے یہ نظم اپنے پیارے بھائی عزیزم ڈاکٹر مہدی علی شہید کی زبانی تحریر کی تھی۔پھر خیال آیا کہ احمدیت کا ہر شہید ہی میرا اپنا تھا اور وہ اسی بہشت میں ہے