مرے من کا دیا جاناںبجھا جائے، جلا جاناں ہے دل میں تُو، کہوں میں کیوںکہاں ہے تو کجا جاناں کوئی تجھ بن روادارینہیں مجھ کو روا جاناں زمانے کے ستم ہم کوکریں گے کیا جدا
دیارِفانی میں ہر طرف سے ہی نوچ کھانے کو ہیں درندےمیں یہ حقیقت جو ابتدا میں ہی جان جاتاتو خوب ہوتا شبِ فراقِ حبیب میں اے مرے خدایا! ترے ہی در پرجبیں کو اپنی جو
رَبَّنَاۤ اَفۡرِغۡ عَلَیۡنَا صَبۡرًا بغاوت، فسق، الزامات کی بھرمار دیکھو گےمنافق حامیوں پر مشتمل کردار دیکھو گے پڑے ہو مخمصوں میں تم اگر تاریخ بھی پڑھ لوخلافت کے تقدس پر بڑی یلغار دیکھو گے کوئی
1908ء یعنی بچپن کی کہی ہوئی نظم تجھے دیکھا تو سارے اولیاء و انبیاء دیکھےظہورِ اولیاء تُو ہے، بروزِ انبیاء تُو ہے کلیم اللہ بننے کا شرف حاصل ہوا تجھ کوخدا بولے نہ کیوں تجھ
آؤ عیسائیو! ادھر آؤ!نور حق دیکھو راہ حق پاؤ! جس قدر خوبیاں ہیں فرقان میںکہیں انجیل میں تو دکھلاؤ سر پہ خالق ہے اس کو یاد کرویوں ہی مخلوق کو نہ بہکاؤ کب تلک جھوٹ
کچھ خدا کے واسطے سوچو کہ کیوں بدحال ہوکیا تماشا ہے کہ اپنے حال سے بے حال ہونعمتیں پا کر ہزاروں پھر بھی خستہ حال ہوبس بدی اور ظلم کرنے میں ہی مالا مال ہووحشت
زیرِ لب کہیے، برملا کہیےکہیے کہیے مجھے برا کہیے اب تقاضا ہے مصلحت کا یہیواعظِ شہر کو خدا کہیے دیکھیے مت قریب سے مجھ کودُور سے تکیے، پارسا کہیے میرا اپنا کوئی وجود نہیںعکس مجھ
سجدۂ دل کا التزام کروسالِ نو میں یہ اہتمام کرو بدظنی اور گنہ سے بچتے رہوذکرِ رحمٰن صبح و شام کرو عاجزی سے زمیں پہ پیر دھرواور محبت سے ہی کلام کرو جو جہالت سے
یہ خواب سا منظر میں یونہی یاد رکھوں گاہونٹوں سے ترے نام جو اپنا میں سنوں گا بے لوث محبت نے مجھے جینا سکھایاہر دم میں تری دل سے اطاعت ہی کروں گا یہ دل
جمال و حسن قرآں نور جانِ ہر مسلماں ہےقمر ہے چاند اوروں کا ہمارا چاند قرآں ہے نظیر اس کی نہیں جمتی نظر میں فکر کر دیکھابھلا کیونکر نہ ہو یکتا کلامِ پاک رحماں ہے