• 2 نومبر, 2026
اسلام اور بانی اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سے عشق

اسلام اور بانی اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سے عشق

آؤ لوگو کہ یہیں نور خدا پاؤ گےلو تمہیں طور تسلّی کا بتایا ہم نےآج ان نوروں کا اِک زور ہے اِس عاجز میںدل کو ان نوروں کا ہر رنگ دلایا ہم نےجب سے یہ

رکھیں گے تجھے یاد، تیرے چاہنے والے

رکھیں گے تجھے یاد، تیرے چاہنے والے

اے نورِ نظر، لختِ جگر، نازوں کے پالےتو جس کی امانت تھی اب اُس کے حوالےاس قادرِمطلق کے ہیں دستور نرالےچاہے جسے، اپنا وہ محبوب بنا لےکہتا تھا لوٹ آؤں گا میں شام سے پہلےکیا

اج لوڑ اے قلم دے واراں دی

اج لوڑ اے قلم دے واراں دی

بختاں والا اے کیڈا قلم لوکوجیدی چائی اے ربّ قسم لوکواینہوں نیزہ تے نالے میں تِیر آکھاںاینہوں اج دی میں شمشیر آکھاںاج جنگ نئیں تیراں تلواراں دیاج لوڑ اے قلم دے واراں دی (مبارک احمد

تجھ پہ رحمت مدام ہو پیارے

تجھ پہ رحمت مدام ہو پیارے

کام صالح تھا نام طالع تھاوہ خلافت کا عین تابع تھا اِک توانا صبیح خادم تھاگوہرِ پاک ابنِ ہاشم تھا پی گیا جام وہ شہادت کاراستہ چن لیا حلاوت کا اسکو قادر سے خاص نسبت

پھولوں کو جو سینے کا لہو دے کے گیا ہے

پھولوں کو جو سینے کا لہو دے کے گیا ہے

پھولوں کو جو سینے کا لہو دے کے گیا ہےدنیا کے مناظر سے بظاہر وہ جدا ہےوہ شخص تو دھڑکن میں دعاؤں میں بسا ہےہم اہل ِ چمن اُس کو سدا یاد کریں گےپھولوں کو

ایک طالع مند ۔۔طالع کی یاد میں

ایک طالع مند ۔۔طالع کی یاد میں

شہید سید طالع احمد اپنے کردار میں اک کوہ گراں ہوتے ہیںہر زمانے میں وہ عظمت کا نشاں ہوتے ہیںوہ جو کٹ جاتے ہیں پیمان وفا کی خاطرایسے انسان ہی توقیر جہاں ہوتے ہیںان کے

پیکرِ تاباں و رخشاں ہیں وہ مثلِ آفتاب

پیکرِ تاباں و رخشاں ہیں وہ مثلِ آفتاب

نذرانہ عقیدت بحضور سیدنا حضرت امیر المؤمنین ایدکم اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز وہ سراسر خندگی اور لطف سے معمور ہیںنغمۂ دل ساز اُن کا دل زدوں نے جب سنااُس طبیبِ روح و جاں کا نسخۂ

منقبت حضرت امام حسین ؓ

منقبت حضرت امام حسین ؓ

بوقتِ سجدہ شہادت کا پی لیا تھا جامبھُلا سکے گی نہ امت بھی کربلا کی شامشہید ہوکے یوں دائم رہے گا نامِ حسینکہ اب بھی ابن علی کو پہنچ رہے ہیں سلامجھکا نہ سر وہ

خلافت کی غلامی ہے ضمانت تیری قربت کی

خلافت کی غلامی ہے ضمانت تیری قربت کی

خلافت کی غلامی ہے ضمانت تیری قربت کیہمیں بھی اس کے قدموں کی ہمیشہ خاکِ پا رکھنااگر نورِ نبوت سے منور جگ کو کرنا ہےتو روشن ہر جگہ ہر دم خلافت کا دیا رکھنااگر ہے

محاسنِ قرآن کریم

محاسنِ قرآن کریم

قرآں خدا نُما ہے خدا کا کلام ہے!بے اِس کے معرفت کا چمن ناتمام ہےجو لوگ شک کی سردیوں سے تھرتھراتے ہیںاِس آفتاب سے وہ عجب دُھوپ پاتے ہیںدُنیا میں جس قدر ہے مذاہب کا