• 2 نومبر, 2026
  1. Home
  2. نظم

Category: نظم

قرآن سے محبت

قرآن سے محبت

شبنم کی طرح وہ دل میں اترتا گیا ہو لے ہولےمیں بھی اس کے رنگ میں رنگتی گئی ہو لے ہو لےمحبت میں اپنی جو جھکڑا اس نے ہو لے ہو لےڈوبتی ہی گئی عشق

ہجومِ مشکلات سے نجات حاصل کرنے کا طریق

ہجومِ مشکلات سے نجات حاصل کرنے کا طریق

ذیل میں جو نظم درج کی جاتی ہے یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک صاحب شیخ محمد بخش رئیس کڑیانوالہ ضلع گجرات کو لکھ کر عطا فرمائی تھی جبکہ وہ سخت مالی مشکلات

عشق (گیت)

عشق (گیت)

وقت کی ڈور سے سانس الجھ کر کچھ آتا کچھ جاتا ہےجیون تو ہے کھیل تماشہ اک آتا اک جاتا ہےکیسا رستہ کیسی منزل کیوں اتنا گھبراتا ہےساحل پہ جو ڈوبنا چاہے اس کو کون

ہم اپنا انتخاب نظر دیکھتے رہے

ہم اپنا انتخاب نظر دیکھتے رہے

ہم اپنا انتخاب نظر دیکھتے رہےروح روان قلب و جگر دیکھتے رہےلوگ آسماں پہ چاند اگر دیکھتے رہےہم بھی تو اپنا، رشک قمر دیکھتے رہےوہ آئے اور پھول بکھیرے، چلے گئےسب پیار کی نظر سے

معلوم اگرچہ ہے کہ موسم یہ کڑا ہے

معلوم اگرچہ ہے کہ موسم یہ کڑا ہے

معلوم اگرچہ ہے کہ موسم یہ کڑا ہےدل پھر بھی گلابوں کے لئے ضد پہ اڑا ہےیاد آئے ہیں پھر لوگ مجھے شہر جفا کےاک تیر ستم یوں بھی میرے دل میں گڑا ہےوہ جس

منقبت بحضور امامِ عالی مقام حسینؓ

منقبت بحضور امامِ عالی مقام حسینؓ

قربانیوں کا باب ہے میدانِ کربلالت پت ہے خوں میں اب بھی گریبانِ کربلاہر کوئی جن کو کہتا ہے خاصانِ کربلااپنی مثال آپ تھے یارانِ کربلادیکھے کوئی جوانی و جانبازئ حسینؓاشعار میں ہو کیسے بیاں

حمدِ ربّ العالمین

حمدِ ربّ العالمین

کس قدر ظاہر ہے نور اُس مبدء الانوار کابن رہا ہے سارا عالَم آئینہ اَبْصار کاچاند کو کل دیکھ کر میں سخت بے کَل ہو گیاکیونکہ کچھ کچھ تھا نشاں اُس میں جمالِ یار کااُس

اُٹھی تھی وہ صدا جو قادیان سے

اُٹھی تھی وہ صدا جو قادیان سے

اُٹھی تھی وہ صدا جو قادیان سےندائے غیب تھی وہ آسمان سےکہا، مثیل ہوں مسیح کا مگرجڑا ہوں مصطفیٰ کے آشیان سےدیں منکرینِ مہدی و مسیح کوشہادتیں حدیث اور قُران سےقلم میں اُس کے سحر

جلسہ سالانہ انگلستان 2021ء

جلسہ سالانہ انگلستان 2021ء

پئیں گے عشق کے لبریز جام جلسہ پرکچھ ایسا ہو گا وہاں اہتمام جلسہ پروہ فرط کیف کا اک اور ہی سماں ہو گاجو ہوں گے سامنے پیارے امام جلسہ پردکھائی دیں گے ہر اک

غزل

غزل

اٹھا کے روح مگر چھوڑ کر مَیں من اپنامَیں کن کے ہاتھ میں دے آیا ہوں وطن اپناکوئی بہار کا جھوٹا ہی مژدہ لے آئےخزاں رسیدہ ہے مدت سے اب چمن اپناکسے خبر ہے کہاں