دل سے دل ملنے لگے اور فاصلے کم ہو گئےقرب کی راہیں کھلیں جب۔ دور سب غم ہوگئےقریہ قریہ بسنے والے ایک عالم ہو گئےایم ٹی اے کی ہے یہ برکت کیا تھےکیا ہم ہو
ہے عجب میرے خدا میرے پہ احساں تیراکس طرح شکر کروں اے مرے سلطاں تیراایک ذرہ بھی نہیں تو نے کیا مجھ سے فرقمیرے اس جسم کا ہر ذرہ ہو قرباں تیراسر سے پا تک
وہ جو تیرے فقیر ہوتے ہیںآدمی بے نظیر ہوتے ہیںدیکھنے والا اک نہیں ملتاآنکھ والے کثیر ہوتے ہیںجن کو دولت حقیر لگتی ہےاف! وہ کتنے امیر ہوتے ہیںجن کو قدرت نے حسن بخشا ہوقدرتاً کچھ
یہ زمیں آخری یہ زماں آخری،اور امام الزماں آخری آخریاہلِ حق کے لئیے ہے یہ بات آخری،اِک چمکتا نشاں آخری آخریتاجدارِ حرم کے پرستار ہیں،عشق و مستی میں مخمور و سرشار ہیںمانتے ہیں اُسے خاتمُ
کلام مسیح موعودؑ اے خداوند من گنا ہم بخشسوئے درگاه خویش را ہم بخشروشنی بخش در دل و جانمپاک کن از گناه پنہانمدلستانی دلربائی کنبه نگاہے گرہ کشائی کندر دو عالم مرا عزیز توئیوانچه می
میں سلطان القلم کی اک سپاہیمری دولت قلم کاغذ سیاہیکتب خانہ درونِ قلب قائمبنی اُستاد آہِ سحر گاہیسر عرش معلّٰی میرا ہادیمرا حافظ ہے خود عالم پناہیمجھے حق نے عطا کی کامرانیمرے دشمن کو ناکامی
تاثیر صداقت(کلام حضرت مسیح موعود علیہ السلام) واہ رے زور صداقت خوب دکھلایا اثرہوگیا نانک نثار دین احمدؐ سربسرجب نظر پڑتی ہے اس چولہ کے ہر ہر لفظ پرسامنے آنکھوں کے آجاتا ہے وہ فرخ
عجب ہے کیا کہ مجھے وہ نظر نہیں آتامجھے ہی دیکھنا ، اُس کو اگر نہیں آتاکنارے بیٹھ کے سیکھا نہ کوئی تیراکیندی میں تیرنا ، تو بے خطر نہیں آتاہے موسموں کی عنایت کہ
جامِ اُلفت مجھے پلا کوئیکہتا ہے تیرا مبتلا کوئی تجھ سا ملتا تو چاہتے بھی اُسےہم کو تجھ سا نہیں ملا کوئی دیکھ کر تجھ کو دیکھتا ہی رہامحو حيرت ہے آئینہ کوئی کتنا کنگال
ناداں! ناحق کیوں گھبراتا ہےیہ رستہ منزل کو جاتا ہےبات بنائے سے نہیں بنتی ہےدل جب آتا ہے آ جاتا ہےمت مایوس ہو اس کی رحمت سےوہ داتا تو سب کا داتا ہےعہد نے جو