• 2 نومبر, 2026
  1. Home
  2. نظم

Category: نظم

’’ہو گیا آخر نمایاں فرق نور و نار کا‘‘

’’ہو گیا آخر نمایاں فرق نور و نار کا‘‘

جب دل صافی میں دیکھا عکس روئے یار کابن گیا وہ بہرِ عالم آئینہ ابصار کاجس نے دیکھا اس کو اپنی ہی جھلک آئی نظرمدتوں جھگڑا چلا دنیا میں ’’نور و نار‘‘ کاخوب بھڑکی آگ

غیرتِ اسلامی کو اپیل

غیرتِ اسلامی کو اپیل

کیوں نہیں لوگو! تمہیں حق کا خیالدل میں اُٹھتا ہے مرے سَو سَو اُبال اس قدر کِین و تعصُّب بڑھ گیاجس سے کچھ ایماں جو تھا وہ سڑ گیا کیا یہی تقوٰی یہی اسلام تھاجس

تجھی کو جو یاں جلوہ فرما نہ دیکھا

تجھی کو جو یاں جلوہ فرما نہ دیکھا

تجھی کو جو یاں جلوہ فرما نہ دیکھابرابر ہے دنیا کو دیکھا نہ دیکھامرا غنچۂ دل ہے وہ دل گرفتہکہ جس کو کسو نے کبھو وا نہ دیکھایگانہ ہے تو آہ بیگانگی میںکوئی دوسرا اور

نیکیوں کی جڑ تقویٰ

نیکیوں کی جڑ تقویٰ

پیارے حضور انور ایدہ اللہ تعالی بنصرہ العزیز کے خطبہ جمعہ 18مئی 2018 سے متاثر ہو کر چند اشعار رمضان کا ہے مقصد تقوی میں بڑھتے جاناہر اک خطا سے بچنا زہد و ہدی میں

سرمئی شام ہے موسم ہے سہانا آنا

سرمئی شام ہے موسم ہے سہانا آنا

سرمئی شام ہے موسم ہے سہانا آنااس سے پہلے کہ میں ہو جاؤں فسانہ آنامجھ سے پہلے ہی کئی لوگ خفا رہتے ہیںمجھ سے جل جائے ذرا اور زمانہ آنااک ترا حسن گلابوں سا غزل

دعائے وصل

دعائے وصل

عرض یوں کرتا ہے محبوب ازل سے خاکساراے شہنشاه زمین و آسمان و ہر دو وارجو بھی خوبی ہے جہاں میں سب تمہارا فیض ہےکان حسن و چشمہ احساں تم ہی ہو اے نگاراک نظر

اللہ تعالیٰ کو خاکساری پسند ہے

اللہ تعالیٰ کو خاکساری پسند ہے

اللہ تعالیٰ کو خاکساری پسند ہے(کلام حضرت مسیح موعود علیہ السلام) الٰہی بخش کے کیسے تھے یہ تِیرکہ آخر ہو گیا اُن کا وہ نخچیراسی پر اس کی لعنت کی پڑی مارکوئی ہم کو تو

خزاں کی رت میں گلاب لہجہ بنا کے رکھنا کمال یہ ہے

خزاں کی رت میں گلاب لہجہ بنا کے رکھنا کمال یہ ہے

خزاں کی رت میں گلاب لہجہ بنا کے رکھنا کمال یہ ہےہوا کی زد پہ دیا جلانا جلا کے رکھنا کمال یہ ہے ذرا سی لغزش پہ توڑ دیتے ہیں سب تعلق زمانے والےسو ایسے

میرے ساتھ ساتھ چلا کرے، کوئی ایسی راہ وفا کرے

میرے ساتھ ساتھ چلا کرے، کوئی ایسی راہ وفا کرے

میرے ساتھ ساتھ چلا کرے، کوئی ایسی راہ وفا کرےوہ ترا خیال جمال ہے جو قدم قدم پہ نبھا کرےتیرے بعد اے میرے راہنما! یہ عجیب عالم شوق ہےنہ ہی تارے دل کو بھلے لگیں،

خلا فت

خلا فت

خدا کا یہ احسان ہے ہم پہ بھاریکہ جس نے ہے اپنی یہ نعمت اتارینہ مایوس ہو نا گھٹن ہو نہ طاریرہے گا خلافت کا فیضان جارینبوت کے ہاتھوں جو پَودا لگا ہےخلافت کے سائے