• 2 نومبر, 2026
  1. Home
  2. نظم

Category: نظم

خلافت

خلافت

خُدا ظاہر ہوا پھر سے لگی بجنے وہ شہنائیسجا کر رَتھ محمد کی مسیح کی ہے برات آئیخلافت پھر ہوئی تازہ بڑھی گُلشن کی رَعنائیخِزاں رُخصت ہوئی اسلام پر پھر سے بہار آئیبڑا احسان ہے

حضور انور کے خطبات جمعہ سے متاثر ہوکر

حضور انور کے خطبات جمعہ سے متاثر ہوکر

اک حسیں ہوتا جب بھی شان سے جلوہ نماسینہ میں قرآں سجاے لب پہ مولیٰ کی ثنااس کی پر تاثیر باتیں دل کو دیتی ہیں سکوںاس کا خطبہ ہے سبھی کے واسطے آب بقاکرتا ہے

حضرت ِمسرور کے ہمراہ رہتا ہے خدا

حضرت ِمسرور کے ہمراہ رہتا ہے خدا

غیر ممکن ہے کریں بارش کے قطروں کو شمارہیں جماعت پر خدا کے فضل اس سے بھی سِواوہ جو آنحضرتؐ نے دی تھی اِک مسیحاؑ کی خبرقادیاں دارالاماں سے اک جری اللہ اُٹھاپھر کیا قرآن

نماز

نماز

اللہ کیا عجیب یہ نعمت نماز ہےدنیا و دین میں باعثِ راحت نماز ہےحکمِ خدا یہ ہے کہ پڑھو مل کے پانچ وقتافضل عبادتوں میں عبادت نماز ہےپھریہ بھی حکم ہے کہ جماعت کے ساتھ

خلیفہ خدا بناتا ہے

خلیفہ خدا بناتا ہے

وہی جو خاک کے سینہ سے پھول اگاتاجو پتھروں سے بھی چشمے بہا کے لاتانہاں جو رکھتا ہے موتی صدف کے سینے میںجو بحر و بر سے گھٹائیں نئی اٹھاتا ہےجوکوه و وادی و صحرا

یہ کیسی عید ہے یاربّ

یہ کیسی عید ہے یاربّ

یہ وہ ہی صحن ہے جس میں نمازِ عید پڑھنی تھیمگر اب خوں میں لت پت مسکنِ آہ وبکا ہو کریہ وہ ہی ہاتھ ہےجس پر حنا میں نے رچانی تھیوہی اب خون سے رنگین

ستم گروں نے عشق کا چراغ جو بجھا دیا

ستم گروں نے عشق کا چراغ جو بجھا دیا

ستم گروں نے عشق کا چراغ جو بجھا دیاستم زدوں نے خون سے رگوں میں پھر جلا دیاوہ نامِ دل ستاں تو دل پہ ہے مرے لکھا ہوابلا سے گر، جدار و لوحِ سنگ سے

قبلہ رخ ہو کے باوضو بولے

قبلہ رخ ہو کے باوضو بولے

قبلہ رخ ہو کے باوضو بولےلفظ دُھل جائے جس کو تو بولےنرم و نازک، حسین، خوشبودارایک ہی پھول چارسُو بولےلِلّٰہِ الْحَمْدْ عہدِ الفت میںپانچ کے پانچ خوبرو بولےقدرتِ ثانیہ کا ہر مظہرعکس در عکس ہو

سائے میں تیرے دھوپ نہائے بصد نیاز

سائے میں تیرے دھوپ نہائے بصد نیاز

سائے میں تیرے دھوپ نہائے بصد نیازاے چھاؤں چھاؤں شخص تیری عمر ہو درازاے اپنے ربّ کے عشق میں دیوانے آدمیدیوانے تیرے ہم کہ ہؤا تو خدا کا نازکیوں کر کھلے خدا جو نہ دیکھو

وہ دل نواز ہے لیکن نظر شناس نہیں

وہ دل نواز ہے لیکن نظر شناس نہیں

وہ دل نواز ہے لیکن نظر شناس نہیںمرا علاج مرے چارہ گر کے پاس نہیںتڑپ رہے ہیں زباں پر کئی سوال مگرمرے لیے کوئی شایان التماس نہیںترے جلو میں بھی دل کانپ کانپ اٹھتا ہےمرے