• 3 نومبر, 2026
  1. Home
  2. نظم

Category: نظم

نمونہ ہے ہمارے سامنے بدری صحابہ ؓکا

نمونہ ہے ہمارے سامنے بدری صحابہ ؓکا

خدا کی حمد کے اُس کی ثنا کے گیت گائیں گے عدو رُسوا رہے گا اور ہم اعزاز پائیں گے یقیناً آتے ہیں غالب خدا اور انبیاء آخر ہم اس دنیا کو پھر اسلام کا

رہے سلامت سفید پگڑی

رہے سلامت سفید پگڑی

رہے سلامت سفید پگڑی مری محبت سفید پگڑی محبتوں کی صداقتوں کی ہے اک علامت سفید پگڑی بڑی سجی ہے یہ پانچوے پر یہ اک امانت سفید پگڑی اسح فسانہ نہ سمجھے کوی ہے اک

یہ ہم پہ بیت رہی ہیں قیامتیں کیسی

یہ ہم پہ بیت رہی ہیں قیامتیں کیسی

خیال و خواب ہوئی ہیں محبتیں کیسی لہو میں ناچ رہی ہیں یہ وحشتیں کیسی نہ شب کو چاند ہی اچھا نہ دن کو مہر اچھا یہ ہم پہ بیت رہی ہیں قیامتیں کیسی وہ

پاک محمدؐ مصطفیٰ نبیوں کا سردار

پاک محمدؐ مصطفیٰ نبیوں کا سردار

رکھ پیش نظر وہ وقت بہن، جب زندہ گاڑی جاتی تھی گھر کی دیواریں روتی تھیں ، جب دنیا میں تو آتی تھی جب باپ کی جھوٹی غیرت کا، خوں جوش میں آنے لگتا تھا

اسلام اور بانیء اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سے عشق

اسلام اور بانیء اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سے عشق

ہر طرف فکر کو دوڑا کے تھکایا ہم نے کوئی دیں۔ دینِ محمدؐ سا نہ پایا ہم نے کوئی مذہب نہیں ایسا کہ نشاں دکھلاوے یہ ثمر باغ محمدؐ سے ہی کھایا ہم نے ہم

میراثِ محمدﷺ کے امیں

میراثِ محمدﷺ کے امیں

فضل ربی کے کئی روپ کئی چہرے ہیں نعمتیں جیسے کہ بارش کے رواں قطرے ہیں دستِ قدرت نے تراشا ہے ہمیں چاہت سے ہم تو میراثِ محمدؐ کے امیں ٹھہرے ہیں یہ جو منزل

نعت رسول مقبولﷺ

نعت رسول مقبولﷺ

کلام حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام وہ پیشوا ہمارا جس سے ہے نُور سارا نام اُس کا ہے محمد دلبر مرا یہی ہے سب پاک ہیں پیمبر اِک دوسرے سے بہتر لیک از خدائے

تھام کے مىرا ہاتھ مجھے دى پىار کى اک پہچان

تھام کے مىرا ہاتھ مجھے دى پىار کى اک پہچان

جگ والے کىا جانىں ہم نے کتنے رشتے کھوئےہاتھ ہىں کتنے اپنوں کى چاہت سے ہم نے دھوئےکتنے پىاروں کے ہم نے ہىں من مىں درد سموئےکتنى بىتى گھڑىوں نے مڑ مڑ کے نىن بھگوئے’’ساجن

سلیم و رضا

سلیم و رضا

آئی ہے بڑی درد بھری ایک خبر آج وہ کرب ہے کٹتا ہے مرا قلب و جگر آج اشکوں پہ مرا آج کوئی ضبط نہیں ہے جائے گا فلک تک میری آہوں کا اثر آج

بدظنی سے بچو

بدظنی سے بچو

بدظنی سے بچوکلام حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اگر دل میں تمہارے شر نہیں ہے تو پھر کیوں ظنِ بد سے ڈر نہیں ہے کوئی جو ظنِ بد رکھتا ہے عادت بدی سے خود