ہمارے ہے ذمہ بہت کام بھاریکہ کرنا ہے اعلانِ توحیدِ بارییہ ظلم و تعصّب تشدّد بغاوتیہ شیطانی قوت کی قِسمیں ہیں سارینہیں کوئی محفوظ جنّ و بشر میںمحافظ ہی ہر سُو بنے ہیں شکارییہ قوموں
آگے بڑھتے رہو دمبدم دوستودیکھو رکنے نہ پائیں قدم دوستو ناخدا گر خدا کو بناتے رہےساحلوں پہ سفینہ بھی آ جائے گااُس کے حکموں پہ سر جو جھکاتے رہےزندگی کا قرینہ بھی آ جائے گا
کس خواب کی یہ ہم کو تعبیر نظر آئیزندان نظر آیا، زنجیر نظر آئی سب اپنے عذابوں میں سب اپنے حسابوں میںدنیا یہ قیامت کی تصویر نظر آئی کچھ دیکھتے رہنے سے، کچھ سوچتے رہنے
یہی پاک چولا ہے سکھوں کا تاجیہی کابلی مل کے گھر میں ہے آجگرو جس کے اس رہ پہ ہوویں فداوہ چیلہ نہیں جو نہ دے سرجھکااگر ہاتھ سے وقت جاوے نکلتو پھر ہاتھ مل
آس رکھتے ہیں تری ہی ذات سے قادر خداجب بھی ہودرپیش کوئی آزمائش‘ ابتلاگر گئے چوکھٹ پہ تیری ہو کے بے حد بے قرار’اے خدا کمزور ہیں ہم اپنے ہاتھوں سے اٹھا‘صبر‘ کتنا صبر ہم
حفاظت اہل ایماں کی مقدر ہے خلافت سےخلافت ہی بچاتی ہے انہیں قعرِِ مذلت سے خلافت مظہرِِ شانِ نبوت اور وحدت ہےخلافت روحِ مذہب ہے خلافت جانِ ملت ہے خلافت ہی ستونِ امت و سامانِ
خدائے بر تر وہ ذات والا عدم سے جس نے ہمیں تکالا حقیر ہم۔ وہ بزرگ و بالا ذلیل ہم۔ وہ اجل و اعلىٰ ادب کے لائق ہے ذات اس کی ہے نام اس کا
کیوں پریشان پئے حجت وبرہاں ہوں میں فرصتم باد کہ مستِ مئے عرفاں ہوں میں ہمہ تن آرزوؤحسرت وارماں ہوں میں خوشتر آں روز کہ خاکِ درِ جاناں ہوں میں یہ تو کس منہ سے کہوں تابع
یہی پاک چولا ہے سکھوں کا تاج یہی کابلی مل کے گھر میں ہے آج اسی کا تو تھا معجزانہ اثر کہ نانک بچا جس سے وقت خطر بچا آگ سے اور بچا آب سے
السّلام السّلام السّلام السّلام ہو گیا جب سے روشن وہ ماہِ تمام آ رہی ہے صدا السّلام السّلام اس کی خاطر بنے سارے کون و مکاں کب سے جاری ہوا یہ نظام السّلام چاند سورج