• 3 نومبر, 2026
  1. Home
  2. نظم

Category: نظم

ہم کو خاص الخاص بخشا ہے خدا نے یہ انعام

ہم کو خاص الخاص بخشا ہے خدا نے یہ انعام

ہم کو خاص الخاص بخشا ہے خدا نے یہ انعامسایۂ ابرِ خلافت، نعمتِ خیرالوریٰیہ سروں پر ہے ہمارے شفقتوں کی اک رِدامَے کدۂ علم و عرفاں بہرِ فیضِ خاص و عامہم کو خاص الخاص بخشا

ہدیۂ  نعت بحضورِ سرورِ کائنات ﷺ

ہدیۂ نعت بحضورِ سرورِ کائنات ﷺ

اے مجسم کرم! اے رسالت مآبؐ!تیری رحمت ہے بےپایاں و بےحسابسب جہانوں پہ تیرے کرم کے سحابتجھ سے ہر ذرۂ زندگی فیضیاب ایک مدت سے مردہ تھے ارض و سمابحر و بر میں فسادات کی

مجاہدین کے نام

مجاہدین کے نام

کرنا ہے جس کو پار وہ سرحد قریب ہےہمت کرو زمینِ اَب و جَد قریب ہےہو نذرِ جاں قبول تو مشہد قریب ہےبڑھتے چلو کہ منزلِ مقصد قریب ہے بڑھتے چلو کہ منزلِ مقصد قریب

اتمامِ حجّت

اتمامِ حجّت

نشاں کو دیکھ کر اِنکار کب تک پیش جائے گاارے اِک اور جھوٹوں پر قیامت آنے والی ہےیہ کیا عادت ہے کیوں سچی گواہی کو چھپاتا ہےتری اِک روز اے گستاخ شامت آنے والی ہےترے

نہیں عشق میں اس کا تو رنج ہمیں کہ قرار و شکیب ذرا نہ رہا

نہیں عشق میں اس کا تو رنج ہمیں کہ قرار و شکیب ذرا نہ رہا

نہیں عشق میں اس کا تو رنج ہمیں کہ قرار و شکیب ذرا نہ رہاغم عشق تو اپنا رفیق رہا کوئی اور بلا سے رہا نہ رہادیا اپنی خودی کو جو ہم نے اٹھا وہ

خلافت دائمی نعمت ہے منہاج نبوت پر

خلافت دائمی نعمت ہے منہاج نبوت پر

انہیں زعمِ تفاخر ہے زر و مال و حکومت پرہمیں شرفِ فضیلت ہے کہ مرتے ہیں خلافت پرزہے قسمت ہمارے سر پہ سایہ ہے امامت کاہمیں وہ لوگ ہیں جن کا یقیں پختہ خلافت پریہ

آپ کی نسبت سے ہی

آپ کی نسبت سے ہی

ہےجہاں کی ساری خِلقت آپؐ کی نسبت سے ہیہم بنیں ہیں خیرِ امت آپؐ کی نسبت سے ہی مہر و مہ نے روشنی لی آپ کے ہی نور سےاورستاروں میں ہےزینت آپؐ کی نسبت سے

یا ربّ کسی معشوق سے عاشِق نہ جُدا ہو

یا ربّ کسی معشوق سے عاشِق نہ جُدا ہو

کُشتوں پہ اگر آن کے تُو اپنے کھڑا ہواک شورِ قیامت تیری آمد سے بَپا ہو معشوق کا برتاؤ ہو عاشِق سے تو کیا ہو؟گہ لُطف ہو، گہ ناز ہو، گہ جَور و جفا ہو

شانِ احمدِ عربی صلی اللہ علیہ وسلم

شانِ احمدِ عربی صلی اللہ علیہ وسلم

زندگی بخش جامِ احمد ہےکیا ہی پیارا یہ نامِ احمد ہےلاکھ ہوں انبیاء مگر بخداسب سے بڑھ کر مقامِ احمد ہےباغِ احمد سے ہم نے پھل کھایامیرا بستاں کلامِ احمد ہےابنِ مریمؑ کے ذکر کو

جگ میں آ کر ادھر ادھر دیکھا

جگ میں آ کر ادھر ادھر دیکھا

جگ میں آ کر ادھر ادھر دیکھاتو ہی آیا نظر جدھر دیکھاجان سے ہو گئے بدن خالیجس طرف تو نے آنکھ بھر دیکھانالہ فریاد آہ اور زاریآپ سے ہو سکا سو کر دیکھاان لبوں نے