نورِ فرقاں دل میں بھر دے حُبِ قرآں دے اسے یا الٰہی قرب اپنا علم و عرفاں دے اسے دل سے نکلی یہ دعا آمین کی تقریب پر ناظرہ تو ہوگیا، اب فہمِ قرآں دے
آقا نے مجھے صاحبِ عرفان بنایا اُس نورِ خدا نے مجھے ذیشان بنایا اِک بار خلیفہ نے نظر ڈالی تھی مجھ پر تھا خاک کا ذرہ مجھے مرجان بنایا آقا سے ملاقات کا ہی مجھ
اگر خطبے نہ آتے تو یہ دن ہم کاٹتے کیسےجوکیفیت ہے آقا کی اُسے ہم جانتے کیسےجماعت اور آقا جیسے ہیں یک جان و دو قالبخدا کا خاص ہے یہ فضل و احساں مانتے کیسے
موت نے جىتى سارى بازى اور جىون کو مات ہوئى کىسا کارى وار ہوا اور کىسى پورى گھات ہوئى اىسے لگتا ہے کہ ان مىں ساون آ کے ٹھہر گىا بعد تمہارے بند نہ مىرى
کبھی پُرسوز لہجے میں ہمیں قرآں سناتا ہے کبھی حمد و ثناء کرتے ہوئے نغمات گاتا ہے کبھی تپتی مسافت میں یہ چھاؤں ڈھونڈ لاتا ہے جسے ہم دیکھنا چاہیں وہی صورت دکھاتا ہے ہمارے
بنا سکتا نہیں اک پاؤں کیڑے کا بشر ہرگز تو پھر کیونکر بنانا نور حق کا اُس پہ آساں ہے ارے لوگو کرو کچھ پاس شان کبریائی کا زباں کو تھام لو اب بھی اگر
صمد ورگون: Səməd Vurğun پیدائش: 21 مارچ 1906ء - وفات: 27 مئی 1956ء) آذربائیجان کے قومی شاعر، ڈراما نویس، لینن انعام یافتہ اور عوامی کارکن تھے۔ صمد ورگون آذربائیجان کے قازاخ ضلع کے گاؤں سلاہلی
خلافت کا دیکھو فقط معجزہ ہے وہ بندہ ہے جس میں خدا بولتا ہے وہ چہرہ کہ ملتی ہے آنکھوں کو ٹھنڈک وہ بولے تو لفظوں میں رس گھولتا ہے چلے تو ہوائیں ادب میں
روز انصاف کے ڈنکے کو بجانے والے یہ وہی ہاتھ ہیں کلمے کو مٹانے والے یاد کرتے ہیں جہاں احمدی اپنے رب کو یہ مسلمان ہیں اس گھر کو گرانے والے عشق کرتے ہیں محمد