• 1 نومبر, 2026
  1. Home
  2. نظم

Category: نظم

نعت رسول مقبولؐ

نعت رسول مقبولؐ

مرے درد کی نہ دوا ہوئیجو دعا ہوئی تو شفا ہوئی تری یاد میں، ترے عشق میںمری خامشی بھی صدا ہوئی مرا درد بڑھتا چلا گیاتری یاد حد سے سوا ہوئی رہا جاگتا یوں تو

چشمِ ما روشن دلِ ما شاد

چشمِ ما روشن دلِ ما شاد

ہو مبارک! اُسے روشنی کا سفر صُلح کا امن کا آشتی کا سفرلوٹ آیا ہے پھر مسکراتا ہوا ہاتھ میں لے کے فتح و ظفر کی خبرارضِ صیحون ہو وے مبارک تجھے تیرا جاگا مقدر

مانتے ہیں رب کو، رب کی مانتا کوئی نہیں

مانتے ہیں رب کو، رب کی مانتا کوئی نہیں

رہنما تو ہیں ہزاروں راستہ کوئی نہیںگُنجلکوں میں پھنس گئے ہیں اور سرا کوئی نہیں اپنی اپنی ڈفلیاں ہیں، اپنا اپنا راگ ہےآسمانی راگ لیکن گا رہا کوئی نہیں منتظر صدیوں سے تھے کہ اک

خدا حفاظت میں اپنی رکھے، ہو اس کے فضلوں کا سایہ سر پر

خدا حفاظت میں اپنی رکھے، ہو اس کے فضلوں کا سایہ سر پر

حسیں تصوّر جو تیرا آیا تو بے خودی میں ہنسا کروں گامیں سوچتا ہوں کہ سامنے میں نے تجھ کو پایا تو کیا کروں گا زمیں کی گردش یونہی چلے گی، فلک پہ تارے رواں

محاسنِ قرآن کریم

محاسنِ قرآن کریم

محاسنِ قرآن کریم(کلام حضرت مسیح موعودؑ) ہے شکر رب عزّوجل خارج از بیانجس کی کلام سے ہمیں اُس کا ملا نشاں وہ روشنی جو پاتے ہیں ہم اس کتاب میںہوگی نہیں کبھی وہ ہزار آفتاب

کامیاب دورۂ امریکہ کے بارے میں چند اشعار

کامیاب دورۂ امریکہ کے بارے میں چند اشعار

مرے آقا! خدا کے فضل سے ہیں کامراں آئےپیام حق سنا کر ہر طرف سے شادماں آئے کیا اسلام کے چہرے کو روشن ہر کنارے پرمحمد کے محاسن کو فروزاں کر کے واں آئے دیا

آ رہی ہے اب دما دم یہ ندائے آسماں

آ رہی ہے اب دما دم یہ ندائے آسماں

آ رہی ہے اب دما دم یہ ندائے آسماںآچکے ہیں مہدیٔ موعود یارو! بےگماں کھولیے آنکھوں کو اپنی اور گوشِ ہوش کواور کہیے الوداع اب اپنے ناحق جوش کو چل رہے ہیں ہر طرف سے

ایک معبود اللہ، محمد نبی

ایک معبود اللہ، محمد نبی

میرے نور العلی کی یہ تقدیر ہےیہ خدا اور محمد کی تصویر ہےکوزہ گر کی محبت کی تعبیر ہےہر زمانے میں اس کی ہی تشہیر ہےمیرے روحِ رواں کی جو تدبیر ہےہر مسلماں کی شہ

یا رب! ترے ہی فضل کا ہے آسرا مجھے

یا رب! ترے ہی فضل کا ہے آسرا مجھے

یا رب! ترے ہی فضل کا ہے آسرا مجھےورنہ تو من سے، خاک ہو، آئے صدا مجھے تو ہے کریم و قادرِ مطلق مرے خداکرنی ہے بارگہ میں تری التجا مجھے زادِ سفر نہیں ابھی

کسی بھی گزرے زمانے کی دھول مت بننا

کسی بھی گزرے زمانے کی دھول مت بننا

کسی بھی گزرے زمانے کی دھول مت بنناحقیقتوں کے فسانے کی دھول مت بننا ہمیشہ اپنا بنانا الگ تھلگ رستہفسردہ لمحے پرانے کی دھول مت بننا اگر بچھڑنا تو اک بار ہی بچھڑ جانایوں آئیں