• 1 نومبر, 2026
  1. Home
  2. نظم

Category: نظم

کرو جو کرنا ہے تم نے، اے دشمنانِ حق!

کرو جو کرنا ہے تم نے، اے دشمنانِ حق!

کرو جو کرنا ہے تم نے، اے دشمنانِ حق!ہمارے لفظ تو ہر حال مسکرائیں گے تمہیں بھی جینے کے انداز کچھ سکھا کر ہمبڑی ہی شان سے اک احمدی بنائیں گے تمہارے تاج کے ہر

عشق کرتا ہے بے مثال ہمیں

عشق کرتا ہے بے مثال ہمیں

باتوں باتوں میں یوں نہ ٹال ہمیںاپنی صورت میں اب کے ڈھال ہمیں عشق کرتا ہے بے مثال ہمیںدرد کرتا ہے باکمال ہمیں اب کہ کھلتی ہوئی بہاروں نےجاتے جاتے کیا نڈھال ہمیں کتنی آہیں

اِنذاروتبشیر

اِنذاروتبشیر

اِنذاروتبشیر(کلام حضرت مسیح موعودؑ) پھر چلے آتے ہیں یارو زلزلہ آنے کے دنزلزلہ کیا ہے اِس جہاں سے کُوچ کر جانے کے دن تُم تو ہو آرام میں۔ پر اپنا قصہ کیا کہیںپھرتے ہیں آنکھوں

بارگاہِ رسالت میں غیر مسلم شاعر کا ہدیۂ تبریک

بارگاہِ رسالت میں غیر مسلم شاعر کا ہدیۂ تبریک

نعت گوئی صنفِ شاعری کی قدیم ترین اصناف میں سےایک ہے۔ اگر غور کیا جائے تو نعت کی صنف قرآنِ کریم میں بھی موجود ہے۔ لیکن قرآن کریم شاعری کی کتاب نہیں۔ نعت گوئی شاعری

جہاں ہو ذکر تراؐ وہ مقام رحمت ہے

جہاں ہو ذکر تراؐ وہ مقام رحمت ہے

سبھی کے واسطے اک رفعت و ہدایت ہےجہاں ہو ذکر ترا وہ مقام رحمت ہے جھکاؤ سر کو عقیدت کی بارگاہوں میںجبینِ عشق کو اس بادشاہ سے نسبت ہے وہ جس کا کلمہ محبت ہی

آپؐ سے جو ہمیں عاشقی ہوگئی

آپؐ سے جو ہمیں عاشقی ہوگئی

آپؐ سے جو ہمیں عاشقی ہو گئینورِ فرقاں سے بھی دوستی ہو گئی دو جہاں کو خبر مرشدی ہو گئیچاند نکلا تو پھر چاندنی ہو گئی آپؐ کے جو مبارک قدم ہیں پڑےدیکھتے دیکھتے روشنی

زائن کی وادیوں سے اسلام کا سورج طلوع ہوا

زائن کی وادیوں سے اسلام کا سورج طلوع ہوا

زائن کی وادیوں سے اسلام کا سورج طلوع ہواقریہٴ ڈوئی کی گھاٹیوں سے اسلام کا سورج طلوع ہوا اہلِ زائن کی تقدیر بدل دی مسجد فتح عظیم کی تعمیر نےنعرہءِ تکبیر کی چنگاریوں سے اسلام

نگار صبح کی امید میں پگھلتے ہوئے

نگار صبح کی امید میں پگھلتے ہوئے

نگار صبح کی امید میں پگھلتے ہوئےچراغ خود کو نہیں دیکھتا ہے جلتے ہوئے وہ حسن اس کا بیاں کیا کرے جو دیکھتا ہوہر اک ادا کے کئی قد نئے نکلتے ہوئے وہ موجِ میکدۂ

پاک محمدؐ مصطفی نبیوں کا سردار

پاک محمدؐ مصطفی نبیوں کا سردار

پاک محمدؐ مصطفی نبیوں کا سردار(حضرت سیدہ نواب مبارکہ بیگمؓ) رکھ پیش نظر وہ وقت بہن، جب زندہ گاڑی جاتی تھیگھر کی دیواریں روتی تھیں، جب دنیا میں تو آتی تھی جب باپ کی جھوٹی غیرت

اِتمامِ حجت

اِتمامِ حجت

اِتمامِ حجت(کلام حضرت مسیح موعودؑ) نشاں کودیکھ کر انکار کب تک پیش جائے گاارے اک اور جھوٹوں پر قیامت آنے والی ہے یہ کیا عادت ہے کیوں سچی گواہی کو چھپاتا ہےتری اک روز اے