بن گئی اک اور مسجد نام ہے فتح عظیمافتتاح اس کا کیا ہے حضرت مسرور نےشہر ڈوئی میں یہ مسجد بن گئ ہے اک نشاںکر دیا ہے اس کو روشن میرے رب کے نور نے
وہ ستار ہے اور وہی میرا پیارکہ در پر ہوئی جس کے میں زار زار وہی جانتا ہے حقیقت ہے کیاوہی بھید کھولے ہے ہم پر ہزار وہی ذات قدرت وہی بادشاہوہی سب کی سنتا
نعمتیں چن دی گئیں ہیں اس کے ہر قرطاس پرمیوہ ہائے دین کا الفضل،دستر خوان ہے (منصورہ فضل من۔ قادیان)
خوشبو میں نہائے ہوئے خوابوں کی طرح ہےوہ شخص تروتازہ گلابوں کی طرح ہے انگور کا پانی ہی ضروری نہیں ساقیدلبر کی زیارت بھی شرابوں کی طرح ہے اب چونکہ چنانچہ کی ضرورت نہیں کوئیوہ
محمدؐہست برہانِ محمدؐ(کلام حضرت مسیح موعودؑ مع منظوم اردو ترجمہ از م م محمود) منظوم کلام عجب نوریست در جانِ محمدؐعجب لعلیست در کانِ محمدؐ زِ ظلمتہا دلے آنگہ شوَد صافکہ گردد از محبّانِ محمدؐ
صداقت کا علم تھامےخلافت کا علم تھامے چلے ہیں کارواں لے کرمحبت کا علم تھامے ہمیں ہیں آج دنیا کیامامت کا علم تھامے کھڑے ہیں خوش نصیبوں میںخلافت کا علم تھامے لیے حاضر ہیں جان
اے سَمیعِ! نالۂ شب ہائے مَن(کلام حضرت میر محمد اسماعیلؓ) اے کہ تُو ہے مُنعِمِ آلائے منمَیں تِرا بندہ ہوں اے آقائے مَن لُطف کُن بر من طُفیلِ آنکہ بُودسیّدِ مَن، شیخِ مَن، مرزائے مَن
ہو گیا ہم سے جدا اک دین کا خادم سیالزندگی اس نے گزاری راہ دیں میں باکمالوہ خلافت کا تھا عاشق دین حق کا باوفاقدرداں تھا دوستوں کا اور بہت تھا خوش خصال (خواجہ عبدالمومن۔
نعمتیں چن دی گئیں ہیں اس کے ہر قرطاس پرمیوہ ہائے دین کا الفضل،دستر خوان ہے (منصورہ فضل من۔ قادیان)
تائیدِ رب الوریٰ سے پھر ہوئے رسوا عدوزمزمہ پیرا صداقت روح مہکانے لگیزندگی کا چاند اترا قریہٴ صیحون میںروشنی سے دل دھلے اور چاندنی گانے لگی (جمیل الرحمن۔ لندن)