• 2 نومبر, 2026
  1. Home
  2. نظم

Category: نظم

افتتاح مسجد، فتح عظیم

افتتاح مسجد، فتح عظیم

سورج چڑھا ہے دیکھ لو فتح عظیم کااک اور ہے کرم یہ خدائے رحیم کااک اور ہے نشان یہ رب کریم کایہ فیصلہٴ صادق و کاذب نہیں اگرکوئی ہمیں بتائے، وہ ڈوئی کہاں گیا کس

پیارے حضور کے امریکہ کے دورہ پر نذارانہٴ عقیدت

پیارے حضور کے امریکہ کے دورہ پر نذارانہٴ عقیدت

پیارے حضور کے امریکہ کے دورہ پرنذارانہٴ عقیدت اس چاند سے پیارے چہرے پر بس ایک نظر بس ایک نظرکردیتی ہے دل کو زیروزبر بس ایک نظر بس ایک نظر کرتی ہے سکینت دل کو عطا

تیری ہر بات ہے سر آنکھوں پر

تیری ہر بات ہے سر آنکھوں پر

مجھ سے اونچا ترا قد ہے، حد ہےپھر بھی سینے میں حسد ہے، حد ہے میرے تو لفظ بھی کوڑی کے نہیںتیرا نقطہ بھی سند ہے، حد ہے تیری ہر بات ہے سر آنکھوں پرمیری

نعت رسول مقبول ؐ

نعت رسول مقبول ؐ

ہر تصوّر سے ماورا ہیں آپؐخاص تخلیقِ کبریا ہیں آپؐ آپؐ احمد بھی ہیں محمد بھیمصطفیٰ آپؐ، مجتبیٰ ہیں آپؐ آپؐ مظہر ہیں حسنِ کامل کےذاتِ باری کا آئینہ ہیں آپؐ قابَ قوسین پر ہیں

خدا کے بعد ماں کو رحمتوں کا سائباں لکھا

خدا کے بعد ماں کو رحمتوں کا سائباں لکھا

محبت کا جہاں لکھا، وفاؤں کا سماں لکھاہوا ربّ مہرباں میں نے کبھی جو حرفِ ماں لکھا ہمیشہ عظمتوں کا ماں کو میں نے اک نشاں دیکھامحبت کے ستارے کو ہمیشہ ضوفشاں لکھا یہ میں

نظر دوڑا کے دیکھو ہر زماں میں

نظر دوڑا کے دیکھو ہر زماں میں

نظر دوڑا کے دیکھو ہر زماں میںہے رخنہ کیا کوئی کون و مکاں میں زمیں کا حسن، صحرا اور دریاہیں روشن چاند تارے آسماں میں غنیمت ہے کہ مل بیٹھے یہاں سببہت سے اور بھی

قطعہ

قطعہ

جس جگہ نام خدا لینا بھی ہو جرم عظیمپھر مٹے نہ کیوں وہاں پر اہتمام زندگی آسماں کی بات پر تم نے توجہ کیوں نہ دیکیوں نہ مانا جو تمہارا تھا امام زندگی (خواجہ عبدالمومن۔

غزل

غزل

خوشبو میں نہائے ہوئے خوابوں کی طرح ہےوہ شخص تروتازہ گلابوں کی طرح ہے انگور کا پانی ہی ضروری نہیں ساقیدلبر کی زیارت بھی شرابوں کی طرح ہے اب چونکہ چنانچہ کی ضرورت نہیں کوئیوہ

توبہ سے عذاب ٹل جاتا ہے

توبہ سے عذاب ٹل جاتا ہے

توبہ سے عذاب ٹل جاتا ہے(کلام حضرت مسیح موعودؑ) کیا تضرُّع اور توبہ سے نہیں ٹلتا عذابکس کی یہ تعلیم ہے دکھلاؤ تم مجھ کو شِتاب اے عزیزو! اس قدر کیوں ہو گئے تم بے

ہر کسی سے پرے پرے رہنا

ہر کسی سے پرے پرے رہنا

ہر کسی سے پرے پرے رہناسہمے سہمے ڈرے ڈرے رہنا تم نے کیا روگ پال رکھے ہیںجب بھی دیکھو مرے مرے رہنا سانحہ کیا ہوا دسمبر میںجون میں بھی ٹھرے ٹھرے رہنا خالی کر دے