• 2 نومبر, 2026
آریوں سے خطاب

آریوں سے خطاب

آریوں سے خطاب(کلام حضرت مسیح موعودؑ) عزیزو! دوستو! بھائیو! سنو باتخدا بخشے تمہیں عالی خیالات ہمیں کچھ کِیں نہیں تم سے پیارونہ کِیں کی بات ہے تم خود بچارو اگر کھینچے کوئی کینے کی تلوارتو

اللہ کی خادمائیں ہیں لجنہ کی ممبرات

اللہ کی خادمائیں ہیں لجنہ کی ممبرات

اللہ کی خادمائیں ہیں لجنہ کی ممبراتصدسالہ جوبلی لجنہ کی مناسبت سے خراج تحسین اللہ کی خادمائیں ہیں لجنہ کی ممبراتہر لمحہ ساتھ ساتھ ہیں احمد کی ناصراتعشق و وفا کے جام سے سرشار آ

اِک سائبانِ خیر

اِک سائبانِ خیر

ظاہر رضائے یار کے عنواں ہوئے تو ہیںپورے تمہاری دید کے ارماں ہوئے تو ہیں ہم نے بھی اپنے صبر کا دامن بہم رکھاآخر تمہارے ہجر کے درماں ہوئے تو ہیں ان تیز و تند

سسکتی دنیا کو زیست اک دن ہمارے ہاتھوں نصیب ہو گی

سسکتی دنیا کو زیست اک دن ہمارے ہاتھوں نصیب ہو گی

سسکتی دنیا کو زیست اک دن ہمارے ہاتھوں نصیب ہو گیخدا ہمارا بہشت اب بھی ہے، فتح ہم سے قریب ہو گی لہو شہیدوں کا رنگ لا کر جو لالہ زاروں میں کھل اٹھے گانئے

غزل

غزل

خوشبو میں نہائے ہوئے خوابوں کی طرح ہےوہ شخص تروتازہ گلابوں کی طرح ہےانگور کا پانی ہی ضروری نہیں ساقیدلبر کی زیارت بھی شرابوں کی طرح ہےاب چونکہ چنانچہ کی ضرورت نہیں کوئیوہ سارے سوالوں

اس ایک عورت سا اس زمیں پر مقام پانا کمال یہ ہے

اس ایک عورت سا اس زمیں پر مقام پانا کمال یہ ہے

برنگِ مریم لباسِ تقویٰ سے تن سجانا کمال یہ ہےسو ’’اماں جاں‘‘ کی نصیحتیں حرضِ جاں بنانا کمال یہ ہے ہے ناز اس پر کہ لجنہ ممبر ہوں اور ہوں اک خدا کی لونڈیسو عہدِ

شان اسلام

شان اسلام

شان اسلام(کلام حضرت مسیح موعودؑ) اسلام سے نہ بھاگو، راہِ ہدیٰ یہی ہےاے سونے والو! جاگو، شمس الضحٰی یہی ہے مجھ کو قسم خدا کی جس نے ہمیں بنایااَب آسماں کے نیچے دینِ خدا یہی

کبھی تو اس سے ملاقات ہو گی جلسے پر

کبھی تو اس سے ملاقات ہو گی جلسے پر

کبھی تو اس سے ملاقات ہو گی جلسے پر(کلام چودھری محمد علی مضؔطر مرحوم) گھرا ہوا تھا میں جس روز نکتہ چینوں میںوہ بے لحاظ کھڑا تھا تماش بینوں میں وہ کش مکش ہوئی انکار

خوف کے تیر ہیں، رستہ ہے کمانوں جیسا

خوف کے تیر ہیں، رستہ ہے کمانوں جیسا

خوف کے تیر ہیں، رستہ ہے کمانوں جیسامیرا انجام ہے مخدوش مچانوں جیسا کس کی ہمت تھی بھلا آ کے بسیرا کرتاسینہ و دل تھا مرا اُجڑے مکانوں جیسا زندگی ٹیڑھی لکیروں میں الجھ کر

بادشہ پائیں گے برکت حضرتِ مسرور سے

بادشہ پائیں گے برکت حضرتِ مسرور سے

اک حسیں ہوتا ہے جب بھی شان سے جلوہ نماسینہ میں قرآں سجائے لب پر مولیٰ کی ثنا اس کی پُرتاثیر باتیں دل کو دیتی ہیں سکوںاس کا خطبہ ہے سبھی کے واسطے آبِ بقا