• 2 نومبر, 2026
  1. Home
  2. نظم

Category: نظم

مرے آنسو گہر کردے

مرے آنسو گہر کردے

خطائیں درگزر کر دےدعائیں بااثر کر دے یہ گھڑیاں آزمائش کیخدایا! مختصر کر دے بلائیں ٹال دے ساریمرے آنسو گہر کردے میں پتلا ہوں گناہوں کامرا آساں سفر کر دے اگر چاہے خدا، زاہد!ترا لکھا

میں طوفانوں میں جینا چاہتا ہوں

میں طوفانوں میں جینا چاہتا ہوں

میں طوفانوں میں جینا چاہتا ہوںصداقت کا سفینہ چاہتا ہوں میں تنگ آیا ہوا ہوں نفرتوں سےمحبت کا مدینہ چاہتا ہوں نظر آئے جسے تیرا ہی چہرہمیں ایسی چشمِ بینا چاہتا ہوں ہو جس میں

عمر بھر رہے یہ خلافت کا سایہ

عمر بھر رہے یہ خلافت کا سایہ

کیا خلعتِ خلافت سجتی ہے تیرے سر پرلاکھوں ایاز آقا مرتے ہیں تیرے در پر جلسہ میں جب تُو آئے اور عجب شان سے چلےسب جھوم جھوم اٹھیں رہبر ہے اپنے سر پر قدرت نے

حسین ایسا کہ سب حسینوں سے بالاتر ہے

حسین ایسا کہ سب حسینوں سے بالاتر ہے

یہ وہ زمیں ہے جو سب زمینوں سے بالاتر ہےکہ اس کو حاصل نگیں، نگینوں سے بالا تر ہے زبان ایسی کہ شہد جس سے مٹھاس مانگےحسین ایسا کہ سب حسینوں سے بالاتر ہے ہے

نثار صدقِ دل سے ہم ہیں سرزمینِ پاک پر

نثار صدقِ دل سے ہم ہیں سرزمینِ پاک پر

نثار صدقِ دل سے ہم ہیں سرزمینِ پاک پرہمارا تن ہماری جاں فدا ہے اس کی خاک پررفو ہیں گھاؤ کر رہے جو سینہِ وطن پہ ہیںگو چھلنی چھلنی دل ہیں خود، ہیں سینہ سینہ

’’یاد دہانی‘‘

’’یاد دہانی‘‘

’’یاد دہانی‘‘یوم آزادی کی شب ایک محفل رقص و سرود دیکھ کر مسرتوں کے ساتھیوتمازتوں کے دوستوہجومِ درد چھٹ گیاالم کا رنگ کٹ گیاہے کائنات نغمہ زنہَوا ہوئے غم و محنبکھر گئی نئی پھبنجبل جبل

جشنِ آزادی

جشنِ آزادی

جشنِ آزادی مبارک آج ہے چودہ اگستیومِ آزادی مبارک آج ہے چودہ اگست اپنا پرچم سبز پرچم اس پہ تارا اور ہلالاپنا پرچم سب سے اُونچا اپنا پرچم لازوال ارضِ پاکستان پر سایہ رہے رحمن

ترانۂ نونہالان

ترانۂ نونہالان

غنچے، کلیاں ہی سہی، پَر رونقِ گلزار ہمکھِل اٹھے جونہی، بنا دیں گے فضا گلنار ہم دل میں ہر اِک کے لیے بس اُلفت و اخلاص ہےنفرتوں سے دور ہیں اور پیار سے سرشار ہم

آؤ! اُردو سیکھیں (سبق نمبر 55)

آؤ! اُردو سیکھیں (سبق نمبر 55)

آؤ! اُردو سیکھیںسبق نمبر 55 امدادی افعال باب دوم گزشتہ سبق سے ہم ایسے امدادی افعال کے بارے میں بات کررہے ہیں جو یا تو فعل کے ساتھ اسم یا اسم صفت کے ملنے سے

رہے گا خلافت کا فیضان جاری

رہے گا خلافت کا فیضان جاری

رہے گا خلافت کا فیضان جاری(کلام صاحبزادی امۃالقدوس بیگم) خدا کا یہ احسان ہے ہم پہ بھاریکہ جس نے ہے اپنی یہ نعمت اتاری نہ مایوس ہو نا گھٹن ہو نہ طاریرہے گا خلافت کا