جس جگہ نام خدا لینا بھی ہو جرم عظیمپھر مٹے نہ کیوں وہاں پر اہتمام زندگیآسماں کی بات پر تم نے توجہ کیوں نہ دیکیوں نہ مانا جو تمہارا تھا امام زندگی (خواجہ عبدالمومن۔ ناروے)
پسند آتی ہے اس کو خاکساری(کلام حضرت مسیح موعودؑ) الٰہی بخش کے کیسے تھے تیرکہ آخر ہو گیا ان کا وہ نخچیر اسی پر اس کی لعنت کی پڑی مارکوئی ہم کو تو سمجھاوے یہ
یٰسین تجھے لکھوں، تجھے طٰہٰ لکھوںمیں ہوں اس سوچ میں آقا، تجھے کیا کیا لکھوں حسن یوسف دمِ عیسیٰ یدِ بیضا لکھوںسبھی اوصاف کا مظہر، تو ہے یکتا لکھوں تیری آمد سے گلستانِ نبوت میں
یہ میرے رب کی مجھ پر اک عطا ہےکہ مجھ پر سوچ کا ہر در کھلا ہے ہمارے ساتھ ہے خوشبو چمن کیہمارے ساتھ چلتی اک صبا ہے یہ کس نے شور آہوں کا اُٹھایایہاں
دردِ دل سے ہے نکلی یہی اک صداتو ہے میرا خدا، تو ہے میرا خدااشک آنکھوں میں ہیں سوز دل میں بھراتو ہے میرا خدا، تو ہے میرا خدا مجھ کو گھیرا ہے غم کی
نعمتیں چن دی گئیں ہیں اس کے ہر قرطاس پرمیوہ ہائے دین کا الفضل، دستر خوان ہے (منصورہ فضل من۔ قادیان)
ہم شگوفے، ہم ہیں کلیاں ہم ہیں آنِ سلسلہہم کو سندر کر رہا ہے باغبانِ سلسلہ قریہ قریہ خوشبوؤں کی پالکی میں بیٹھ کرپھیلتی ہی جا رہی ہے داستانِ سلسلہ خود وہ غارت ہو گیا،
اُونچا ہے جس کا مینار اور نام ہے فتحِ عظیمتیرے فضلوں سے بنی مسجد ہے یہ ربِّ رحیمحضرتِ احمد کو للکارا تھا ڈوئی نے یہاںمَرگیا ذِلّت کی پھر وہ موت جنگ میں یہ غنیمنام اونچا
نم آلود تھے میرے نینا اور سیلاب تھا دل میں اشکوں کاباہر بھی تھا سیلِ بلا اور سیلاب تھا دل میں اشکوں کا تھے وہ کیسے عالی ہمت جو اوروں کے غم خوار بنےخود تھے
لوحِ دل پہ بس حدیث یار میں لکھتا رہوںمجھ میں ظاہر یار ہو اور اس میں میں دکھتا رہوں ایک جاں کافی نہیں ہے شکر نعمت کے لئےیار کی خاطر جیوں مر مر کے میں