• 2 نومبر, 2026
  1. Home
  2. نظم

Category: نظم

قطعہ

قطعہ

جس جگہ نام خدا لینا بھی ہو جرم عظیمپھر مٹے نہ کیوں وہاں پر اہتمام زندگیآسماں کی بات پر تم نے توجہ کیوں نہ دیکیوں نہ مانا جو تمہارا تھا امام زندگی (خواجہ عبدالمومن۔ ناروے)

پسند آتی ہے اس کو خاکساری

پسند آتی ہے اس کو خاکساری

پسند آتی ہے اس کو خاکساری(کلام حضرت مسیح موعودؑ) الٰہی بخش کے کیسے تھے تیرکہ آخر ہو گیا ان کا وہ نخچیر اسی پر اس کی لعنت کی پڑی مارکوئی ہم کو تو سمجھاوے یہ

میں تو آقاؐ تجھے اپنا، فقط اپنا لکھوں

میں تو آقاؐ تجھے اپنا، فقط اپنا لکھوں

یٰسین تجھے لکھوں، تجھے طٰہٰ لکھوںمیں ہوں اس سوچ میں آقا، تجھے کیا کیا لکھوں حسن یوسف دمِ عیسیٰ یدِ بیضا لکھوںسبھی اوصاف کا مظہر، تو ہے یکتا لکھوں تیری آمد سے گلستانِ نبوت میں

یہ میرے رب کی مجھ پر اک عطا ہے

یہ میرے رب کی مجھ پر اک عطا ہے

یہ میرے رب کی مجھ پر اک عطا ہےکہ مجھ پر سوچ کا ہر در کھلا ہے ہمارے ساتھ ہے خوشبو چمن کیہمارے ساتھ چلتی اک صبا ہے یہ کس نے شور آہوں کا اُٹھایایہاں

تو ہے میرا خدا تو ہے میرا خدا

تو ہے میرا خدا تو ہے میرا خدا

دردِ دل سے ہے نکلی یہی اک صداتو ہے میرا خدا، تو ہے میرا خدااشک آنکھوں میں ہیں سوز دل میں بھراتو ہے میرا خدا، تو ہے میرا خدا مجھ کو گھیرا ہے غم کی

الفضل، ایک دستر خوان ہے

الفضل، ایک دستر خوان ہے

نعمتیں چن دی گئیں ہیں اس کے ہر قرطاس پرمیوہ ہائے دین کا الفضل، دستر خوان ہے (منصورہ فضل من۔ قادیان)

اور جذبوں کو جگائیں شاعرانِ سلسلہ

اور جذبوں کو جگائیں شاعرانِ سلسلہ

ہم شگوفے، ہم ہیں کلیاں ہم ہیں آنِ سلسلہہم کو سندر کر رہا ہے باغبانِ سلسلہ قریہ قریہ خوشبوؤں کی پالکی میں بیٹھ کرپھیلتی ہی جا رہی ہے داستانِ سلسلہ خود وہ غارت ہو گیا،

فتحِ عظیم

فتحِ عظیم

اُونچا ہے جس کا مینار اور نام ہے فتحِ عظیمتیرے فضلوں سے بنی مسجد ہے یہ ربِّ رحیمحضرتِ احمد کو للکارا تھا ڈوئی نے یہاںمَرگیا ذِلّت کی پھر وہ موت جنگ میں یہ غنیمنام اونچا

سیلاب تھا دل میں اشکوں کا

سیلاب تھا دل میں اشکوں کا

نم آلود تھے میرے نینا اور سیلاب تھا دل میں اشکوں کاباہر بھی تھا سیلِ بلا اور سیلاب تھا دل میں اشکوں کا تھے وہ کیسے عالی ہمت جو اوروں کے غم خوار بنےخود تھے

لوحِ دل پہ بس حدیث یار میں لکھتا رہوں

لوحِ دل پہ بس حدیث یار میں لکھتا رہوں

لوحِ دل پہ بس حدیث یار میں لکھتا رہوںمجھ میں ظاہر یار ہو اور اس میں میں دکھتا رہوں ایک جاں کافی نہیں ہے شکر نعمت کے لئےیار کی خاطر جیوں مر مر کے میں